عصمتِ انبیاءؑ — Page 706
صفحہ ۴۵۷۔ایک نسخہ بذریعہ ڈاک یا کسی معتبر آدمی کے بھیجا جائے گا صفحہ ۴۵۹۔دیکھو راستہ کا فرق کہاں سے کہاں تک ہے صفحہ ۴۷۵۔تو کیوں کر کسی معشوق کا عاشق ہو سکتا ہے جب تک اُس کا چہرہ تیرے دل میں بس نہ جائے۔اسی طرح ان ہونٹوں کے دو بول وہی اثر رکھتے ہیں جیسے (محبوب کا) دیدار۔بے شک دلبر خوش ُخو کا عشق اس کی گفتگو سے بھی پیدا ہو جاتا ہے جیسا کہ اس کے دیکھنے سے۔کلام میں بڑی کشش ہوا کرتی ہے کلام کے بغیر دیدار کا اثر کم ہی ہوتا ہے۔جس کو ذوقِ گفتار نصیب ہو گیا اُس نے عشق کے راستہ کا سارا راز معلوم کر لیا۔محبوب کی شیریں کلامی پل بھر میں تجھے زندگی عطا کر دے گی۔وہ دوزخ جو ُخم کی طرح عذاب سے ُپر ہے اس کی وجہ بھی یہی ہے کہ خدا تعالیٰ ان سے کلام نہیں کرے گا۔نہ دل صاف ہوتا ہے نہ خوف دور ہوتا ہے جب تک تو موسیٰ کی طرح کلیم نہ بن جائے۔دل کی دوا خدا کا کلام ہے ُتو خدا کے اُس جام کے بغیر سیراب کیونکر ہو سکتا ہے؟۔جب تک اُس نے خود اَنَا الْمَوْجُوْدنہ کہا تب تک اس کی ہستی کا عقدہ کوئی کھول نہ سکا۔جب تک غیب سے مشعل ظاہر نہ ہوئی تب تک جہالت کی اندھیری رات سے کسی نے رہائی نہ پائی۔جب تک خدا نے خود اپنے تئیں ظاہر نہ کیا تب تک کسی کو اُس دلدار کی گلی کا پتہ نہ لگا۔جب تک اُس نے خود اپنے کلام کے ذریعہ یقین نہ بخشا تب تک کوئی شک وشبہ کے قید خانہ سے آزادنہ ہوا۔زُہد اور صدق اور سداد کی جو بات بھی ہو۔بغیر یقین کے اس کی بنیاد کمزور ہوتی ہے۔اگر خدائے واحد پر یقین نہیں ہے تو قوت ایمان ناممکن ہے۔دین ومذہب بغیر یقین کے بالکل فضول ہیں کوئی دل بغیر یقین کے آرام نہیں پا سکتا۔بغیر یقین کے اور بغیر یقین کی روشنیوں کے کوئی شخص شیطانِ لعین کے پھندے سے آزادنہ ہو سکا۔یقین کے بغیر کوئی شخص بھی گناہ سے نہیں چھٹتا، میں بہت سے بوڑھوں اور جوانوں کے حال سے آگاہ ہوں