عصمتِ انبیاءؑ — Page 665
روحانی خزائن جلد ۱۸ ۶۶۱ عصمت انبياء عليهم السلام کر سکے کیونکہ خدا نے آدم کو پیدا کر کے سب سے پہلے آدم کی محبت کا مصداق اس کی بیوی کو (۱۸۰) ہی بنایا ہے۔ پس جو شخص اپنی بیوی سے محبت نہیں کرتا اور یا اس کی خود بیوی ہی نہیں وہ کامل انسان ہونے کے مرتبہ سے گرا ہوا ہے اور شفاعت کی دو شرطوں میں سے ایک شرط اس میں مفقود ہے۔ اس لئے اگر عصمت اس میں پائی بھی جائے تب بھی وہ شفاعت کرنے کے لائق نہیں لیکن جو شخص کوئی بیوی نکاح میں لاتا ہے وہ اپنے لئے بنی نوع کی ہمدردی کی بنیاد ڈالتا ہے کیونکہ ایک بیوی بہت سے رشتوں کا موجب ہو جاتی ہے اور بچے پیدا ہوتے ہیں ان کی بیویاں آتی ہیں اور بچوں کی نانیاں اور بچوں کے ماموں وغیرہ ہوتے ہیں اور اس طرح پر ایسا شخص خواه نخواہ محبت اور ہمدردی کا عادی ہو جاتا ہے اور اس کی اس عادت کا دائرہ وسیع ہو کر سب کو اپنی ہمدردی سے حصہ دیتا ہے لیکن جو لوگ جو گیوں کی طرح نشو و نما پاتے ہیں ان کو اس عادت کے وسیع کرنے کا کوئی موقع نہیں ملتا۔ اس لئے ان کے دل سخت اور خشک رہ جاتے ہیں۔ اور عصمت کو شفاعت سے کوئی حقیقی تعلق نہیں کیونکہ عصمت کا مفہوم صرف اس حد تک ہے کہ انسان گناہ سے بچے اور گناہ کی تعریف یہ ہے کہ انسان خدا کے حکم کو عمد ا تو ڑ کر لائق سزا ٹھہر ۔ پس صاف ظاہر ہے کہ عصمت اور شفاعت میں کوئی تلازم ذاتی نہیں جبکہ عقل اور انصاف کے رو سے گناہ کی تعریف یہ ہے کہ گناہ ایک فعل کو اس وقت کہا : جائے گا جبکہ ایک انسان اس فعل کے ذریعہ سے خدا کے حکم کو تو ڑ کر سزا کے لائق ٹھہرے تو اس صورت میں ضروری ہوا کہ گناہ کے صادر ہونے سے پہلے خدا کا حکم موجود ہو۔ اور نیز اس گناہ کے مرتکب کو وہ حکم پہنچ بھی گیا ہو اور نیز اس فعل کے مرتکب کی نسبت عقل تجویز کر سکتی ہو کہ اس فعل کے ارتکاب سے درحقیقت وہ سزا کے لائق ٹھہر چکا ہے۔ ( مثالیں بطور استثناء ) زید ایک (۱۸۱) ایسے دور دراز ملک میں ہے کہ خدا کی شریعت اس کو نہیں پہنچی پس اگر شریعت کے احکام میں سے کسی ایک حکم یا چند حکم کو زید نے توڑ دیا ہے تو اس خلاف ورزی احکام الہی سے وہ مجرم