عصمتِ انبیاءؑ — Page 664
روحانی خزائن جلد ۱۸ ۶۶۰ عصمت انبياء عليهم السلام کی طرف سے مشہود اور محسوس ہے۔ پس اصل جڑ شفاعت کی یہی محبت ہے جب اس کے ساتھ فطرتی تعلق بھی ہو کیونکہ بجو فطرتی تعلق کے محبت کا کمال جو شرط شفاعت ہے غیر ممکن ہے اس تعلق کو انسانی فطرت میں داخل کرنے کے لئے خدا نے حوا کو علیحدہ پیدا نہ کیا بلکہ آدم کی پسلی سے ہی اس کو نکالا۔ جیسا کہ قرآن شریف میں فرمایا ہے وَخَلَقَ مِنْهَا زَوْجَهَا یعنے آدم کے وجود میں سے ہی ہم نے اس کا جوڑا پیدا کیا جو حوا ہے۔ تا آدم کا تعلق حوا اور اس کی اولاد سے طبعی ہو نہ بناوٹی۔ اور یہ اس لئے کیا کہ تا آدم زادوں کے تعلق اور ہمدردی کو بقا ہو کیونکہ طبعی تعلقات غیر منفک ہوتے ہیں مگر غیر طبعی تعلقات کے لئے بقا نہیں ہے کیونکہ ان میں وہ باہمی کشش نہیں ہے جو طبعی میں ہوتی ہے۔ غرض خدا نے اس طرح پر دونوں قسم کے تعلق جو آدم کے لئے خدا سے اور بنی نوع سے ہونے چاہئے تھے طبعی طور پر پیدا کئے پس اس تقریر سے صاف ظاہر ہے کہ کامل انسان جو شفیع ہونے کے لائق ہو وہی شخص ہو سکتا ہے جس نے ان دونوں تعلقوں سے کامل حصہ لیا ہو اور کوئی شخص بجز ان ہر دو قسم کے کمال کے انسان کامل نہیں ہوسکتا۔ اسی لئے آدم کے بعد یہی سنت اللہ ایسے طرح پر جاری ہوئی کہ کامل انسان کے لئے جو شفیع ہو سکتا ہے یہ دونوں تعلق ضروری ٹھہرائے گئے یعنی ایک یہ تعلق کہ ان میں آسمانی روح پھونکی گئی ۔ اور خدا نے ایسا ان سے اتصال کیا کہ گویا ان میں اتر آیا اور دوسرے یہ کہ بنی نوع کی زوجیت کا وہ جوڑ جو حوا اور آدم میں باہمی محبت اور ہمدردی کے ساتھ مستحکم کیا گیا تھا ان میں سب سے زیادہ چمکا یا گیا اسی تحریک سے ان کو بیویوں کی طرف بھی رغبت ہوئی اور یہی ایک اول علامت اس بات کی ہے کہ ان میں بنی نوع کی ہمدردی کا مادہ ہے اور اسی کی طرف وہ حدیث اشارہ کرتی ہے جس کے یہ الفاظ ہیں کہ خَيْرُكُمْ خَيْرُكُمْ بِأَهْلِہ نے تم میں سے سب سے زیادہ بنی نوع کے ساتھ بھلائی کرنے والا وہی ہو سکتا ہے کہ پہلے اپنی بیوی کے ساتھ بھلائی کرے مگر جو شخص اپنی بیوی کے ساتھ ظلم اور شرارت کا برتاؤ رکھتا ہے ممکن نہیں کہ وہ دوسروں سے بھی بھلائی النساء : ٢