عصمتِ انبیاءؑ — Page 666
روحانی خزائن جلد ۱۸ ۶۶۲ عصمت انبياء عليهم السلام کیونکہ تعریف مذکورہ بالا کے رو سے نابالغ بچے اور پیدائشی مجنوں بھی معصوم ہیں وجہ یہ کہ وہ اس لائق نہیں ہیں کہ کوئی گناہ عمدا کریں اور نہ وہ خدا تعالیٰ کے نزدیک کسی فعل کے ارتکاب سے قابل سزا ٹھہرتے ہیں۔ پس بلا شبہ وہ حق رکھتے ہیں کہ ان کو معصوم کہا جائے مگر کیا وہ یہ حق بھی رکھتے ہیں کہ وہ انسانوں کے شفیع ہوں اور منجی کہلائیں پس اس سے صاف ظاہر ہے کہ مُنجی ہونے اور معصوم ہونے میں کوئی حقیقی رشتہ نہیں اور ہر گز عقل سمجھ نہیں سکتی کہ عصمت کو شفاعت سے کوئی حقیقی تعلق ہے ہاں عقل اس بات کو خوب سمجھتی ہے کہ شفیع کے لئے یہ ضروری ہے کہ مذکورہ بالا دو قسم کے تعلق اس میں پائے جائیں اور عقل بلاتر در یہ حکم (۱۸۱) کرتی ہے کہ اگر کسی انسان میں یہ دو صفتیں موجود ہوں کہ ایک خدا سے تعلق شدید ہو اور دوسری طرف مخلوق سے بھی محبت اور ہمدردی کا تعلق ہو تو بلاشبہ ایسا شخص ان لوگوں کے لئے جنہوں نے عمداً اُس سے تعلق نہیں تو ڑ اد لی جوش سے شفاعت کرے گا اور وہ شفاعت اس کی منظور کی جائے گی کیونکہ جس شخص کی فطرت کو یہ دو تعلق عطا کئے گئے ہیں ان کا لازمی نتیجہ یہی نہیں ہے کیونکہ شریعت سے اس کو اطلاع نہیں لیکن اگر زید عقل اور فہم رکھنے کی حالت میں بت پرستی کرنے لگے اور خدا کی توحید سے برگشتہ ہو جائے تو وہ با وجود اس کے کہ شریعت اس کو نہیں پہنچی تب بھی مجرم ہے کیونکہ جس تو حید کو قرآن لایا ہے وہ عیسائیوں کی تثلیث کی طرح ایسا امر نہیں ہے جو انسانی فطرت میں منقوش نہ ہو بلکہ وہ روز ازل سے بشری فطرت میں منقوش ہے لہذا اس کی خلاف ورزی کیلئے شریعت کا پہنچنا ضروری نہیں صرف انسانی عقل کا پایا جانا ضروری ہے اور اگر شریعت موجود ہے اور ایک شخص کو پہنچ گئی ہے لیکن وہ نا بالغ ہے یا مجنون ہے اور اُس حالت میں وہ کسی ایسے فعل کا مرتکب ہوا ہے جو شریعت کی رو سے گناہ کہلاتا ہے تو وہ سزا کے لائق نہیں کیونکہ انسانی عقل اس کو دی نہیں گئی اس لئے وہ با وجود شریعت کے پھر بھی معصوم ہے ۔ منہ