اِسلامی اُصول کی فلاسفی

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 418 of 550

اِسلامی اُصول کی فلاسفی — Page 418

روحانی خزائن جلدها ۴۱۲ اسلامی اصول کی فلاسفی اب بہشت میں ظاہر ظاہر اس کی نہریں نظر آئیں گی۔ اور وہ حلاوت ایمانی کا شہد جو دنیا میں روحانی طور پر عارف کے منہ میں جاتا تھا وہ بہشت میں محسوس اور نمایاں نہروں کی طرح دکھائی دے گا اور ہر ایک بہشتی اپنی نہروں اور اپنے باغوں کے ساتھ اپنی روحانی حالت کا اندازہ برہنہ کر کے دکھلا دے گا اور خدا بھی اس دن بہشتیوں کے لئے حجابوں سے باہر آ جائے گا۔ غرض روحانی حالتیں مخفی نہیں رہیں گی بلکہ جسمانی طور پر نظر آئیں گی۔ تیسرا دقیقه معرفت تیسرا دقیقہ معرفت کا یہ ہے کہ عالم معاد میں ترقیات غیر متناہی ہوں گی اس میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔ وَالَّذِينَ آمَنُوْا مَعَهُ نُوْرُهُمْ يَسْعَى بَيْنَ أَيْدِيهِمْ وَ بِأَيْمَانِهِمْ يَقُولُونَ رَبَّنَا أَتْمِمْ لَنَا نُوْرَنَا وَاغْفِرْلَنَا إِنَّكَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ - ! یعنی جو لوگ دنیا میں ایمان کا نور رکھتے ہیں ان کا نور قیامت کو ان کے آگے اور ان کے داہنی طرف دوڑتا ہو گا ، وہ ہمیشہ یہی کہتے رہیں گے کہ اے خدا ہمارے نور کو کمال تک پہنچا اور اپنی مغفرت کے اندر ہمیں لے لے ۔ تو ہر چیز پر قادر ہے۔ اس آیت میں یہ جو فرمایا کہ وہ ہمیشہ یہی کہتے رہیں گے کہ ہمارے نور کو کمال تک پہنچا۔ یہ ترقیات غیر متناہیہ کی طرف اشارہ ہے یعنی ایک کمال نورانیت کا انہیں حاصل ہوگا۔ پھر دوسرا کمال نظر آئے گا اس کو دیکھ کر پہلے کمال کو ناقص پائیں گے۔ پس کمال ثانی کے حصول کے لئے التجا کریں گے اور جب وہ حاصل ہوگا تو ایک تیسرا مرتبہ کمال کا ان پر ظاہر ہوگا۔ پھر اس کو دیکھ کر پہلے کمالات کو پیج سمجھیں گے اور اس کی خواہش کریں گے۔ حملہ اصل مسودہ میں ” منہ میں ڈالا جاتا “ کے الفاظ مرقوم ہیں۔ (ناشر) التحريم: 9