اِسلامی اُصول کی فلاسفی — Page 417
روحانی خزائن جلد ۱۰ ۴۱۱ اسلامی اصول کی فلاسفی يَوْمَ تَرَى الْمُؤْمِنِيْنَ وَالْمُؤمِنتِ يَسْعَى نُورُهُمْ بَيْنَ أَيْدِيْهِمْ وَبِأَيْمَانِهِمْ ! یعنی اس روز تو دیکھے گا کہ مومنوں کا یہ نور جو دنیا میں پوشیدہ طور پر ہے۔ ظاہر ظاہر ان کے آگے اور ان کے داہنی طرف دوڑتا ہوگا۔ اور پھر ایک اور آیت میں فرماتا ہے۔ يَوْمَ تَبْيَضُ وَجُوهٌ وَتَسْوَدُّ وُجُوهٌ ل یعنی اس دن بعض منہ سیاہ ہو جائیں گے اور بعض سفید اور نورانی ہو جائیں گے اور پھر ایک اور آیت میں فرماتا ہے۔ مَثَلُ الْجَنَّةِ الَّتِي وُعِدَ الْمُتَّقُونَ فِيهَا أَنْهُرُ مِنْ مَّاءِ غَيْرِ اسِنٍ ۚ وَأَنْهُرٌ مِنْ لَّبَنٍ لَّمْ يَتَغَيَّرُ طَعْمُهُ وَأَنْهُرٌ مِّنْ خَمْرٍ لنَّةٍ لِلشَّرِبِينَ وَانْهُرُ مِنْ عَسَلٍ مُّصَفًّى یعنی وہ بہشت جو پر ہیز گاروں کو دی جائے گی اس کی مثال یہ ہے کہ جیسے ایک باغ ہے اس میں اس پانی کی نہریں ہیں جو کبھی متعفن نہیں ہوتا اور نیز اس میں اس دودھ کی نہریں ہیں جس کا کبھی مزہ نہیں بدلتا اور نیز اس میں اس شراب کی نہریں ہیں جو سراسر سرور بخش ہے جس کے ساتھ خمار نہیں اور نیز اس میں اس شہد کی نہریں ہیں جو نہایت صاف ہے جس کے ساتھ کوئی کثافت نہیں ۔ اس جگہ صاف طور پر فرمایا کہ اس بہشت کو مثالی طور پر یوں سمجھ لو کہ ان تمام چیزوں کی اس میں نا پیدا کنار نہریں ہیں وہ زندگی کا پانی جو عارف دنیا میں روحانی طور پر پیتا ہے اس میں ظاہری طور پر موجود ہے اور وہ روحانی دودھ جس سے وہ شیر خوار بچہ کی طرح روحانی طور پر دنیا میں پرورش پاتا ہے بہشت میں ظاہر ظاہر دکھائی دے گا اور وہ خدا کی محبت کی شراب جس سے وہ دنیا میں روحانی طور پر ہمیشہ مست رہتا تھا الحديد: ۱۳ ال عمران: ۱۰۷ محمد : ۱۲