اِسلامی اُصول کی فلاسفی — Page 376
روحانی خزائن جلد ۱۰ ۳۷۰ اسلامی اصول کی فلاسفی لَا الشَّمْسُ يَنْبَغِي لَهَا أَنْ تُدْرِكَ الْقَمَرَ وَلَا الَّيْلُ سَابِقُ النَّهَارِ وَكُلٌّ فِي فَلَكٍ يَسْبَحُونَ ! یعنی آفتاب چاند کو نہیں پکڑ سکتا اور نہ رات جو مظہر ماہتاب ہے دن پر جو مظہر آفتاب ہے کچھ تسلط کر سکتی ہے یعنی کوئی ان میں سے اپنی حدود مقررہ سے باہر نہیں جا تا۔ اگر ان کا در پردہ کوئی مد بر نہ ہو تو یہ تمام سلسلہ درہم برہم ہو جائے۔ یہ دلیل ہیئت پر غور کرنے والوں کے لئے نہایت فائدہ بخش ہے کیونکہ اجرام فلکی کے اتنے بڑے عظیم الشان اور بے شمار گولے ہیں جن کے تھوڑے سے بگاڑ سے تمام دنیا تباہ ہو سکتی ہے۔ یہ کیسی قدرت حق ہے کہ وہ آپس میں نہ ٹکراتے ہیں اور نہ بال بھر رفتار بدلتے اور نہ اتنی مدت تک کام دینے سے کچھ گھسے اور نہ ان کی کلوں پرزوں میں کچھ فرق آیا۔ اگر سر پر کوئی محافظ نہیں تو کیونکر اتنا بڑا کارخانہ بے شمار برسوں سے خود بخود چل رہا ہے۔ انہیں حکمتوں کی طرف اشارہ کر کے خدا تعالیٰ دوسرے مقام میں فرماتا ہے۔ افِي اللهِ شَكٍّ فَاطِرِ السَّمَوتِ وَالْأَرْضِ ! یعنی کیا خدا کے وجود میں شک ہو سکتا ہے جس نے ایسے آسمان اور ایسی زمین بنائی۔ پھر ایک دلیل اپنی ہستی پر دیتا ہے اور وہ یہ ہے۔ كُلُّ مَنْ عَلَيْهَا فَانٍ وَيَبْقَى وَجْهُ رَبَّكَ ذُو الْجَلْلِ وَالْإِكْرَامِ یعنی ہر ایک چیز معرض زوال میں ہے اور جو باقی رہنے والا ہے وہ خدا ہے جو جلال والا ا اور بزرگی والا ہے۔ اب دیکھو کہ اگر ہم فرض کر لیں کہ ایسا ہو کہ زمین ذرہ ذرہ ہو جائے اور اجرام فلکی بھی ٹکڑے ٹکڑے ہو جائیں اور ان پر معدوم کرنے والی ایک ایسی ہوا چلے جو تمام نشان ان چیزوں کے مٹادے مگر پھر بھی عقل اس بات کو مانتی اور قبول کرتی ہے بلکہ صحیح کانشنس اس کو ضروری سمجھتا ہے کہ اس تمام نیستی کے بعد بھی ایک چیز باقی رہ جائے جس پر يس :٤١ ابراهيم : الرحمن: ۲۸،۲۷