اِسلامی اُصول کی فلاسفی

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 377 of 550

اِسلامی اُصول کی فلاسفی — Page 377

روحانی خزائن جلد ۱۰ ۳۷۱ اسلامی اصول کی فلاسفی فنا طاری نہ ہو اور تبدل اور تغیر کو قبول نہ کرے اور اپنی پہلی حالت پر باقی رہے ۔ پس وہ وہی خدا ہے جو تمام فانی صورتوں کو ظہور میں لایا اور خود فنا کی دست برد سے محفوظ رہا۔ پھر ایک اور دلیل اپنی ہستی پر قرآن شریف میں پیش کرتا ہے۔ الَسْتُ بِرَبِّكُمْ قَالُوا بَلى یعنی میں نے روحوں کو کہا کہ کیا میں تمہارا رب نہیں ؟ انہوں نے کہا کیوں نہیں۔ اس آیت میں خدا تعالیٰ قصہ کے رنگ میں روحوں کی اس خاصیت کو بیان فرماتا ہے جو ان کی فطرت میں اُس نے رکھی ہوئی ہے اور وہ یہ ہے کہ کوئی روح فطرت کی رو سے خدا تعالی کا (۴۲) انکار نہیں کر سکتی ۔ صرف منکروں کو اپنے خیال میں دلیل نہ ملنے کی وجہ سے انکار ہے مگر باوجود اس انکار کے وہ اس بات کو مانتے ہیں کہ ہر ایک حادث کے واسطے ضرور ایک محدث ہے۔ دنیا میں ایسا کوئی نادان نہیں کہ اگر مثلاً بدن میں کوئی بیماری ظاہر ہو تو وہ اس بات پر اصرار کرے که در پردہ اس بیماری کے ظہور کی کوئی علت نہیں۔ اگر یہ سلسلہ دنیا کا علل اور معلول سے مربوط نہ ہوتا تو قبل از وقت یہ بتا دینا کہ فلاں تاریخ طوفان آئے گا یا آندھی آئے گی یا خسوف ہوگا یا کسوف ہوگا یا فلاں وقت بیمار مر جائے گا یا فلاں وقت تک ایک بیماری کے ساتھ فلاں بیماری لاحق ہو جائے گی۔ یہ تمام باتیں غیر ممکن ہو جائیں۔ پس ایسا محقق اگر چہ خدا کے وجود کا اقرار نہیں کرتا مگر ایک طور سے تو اس نے اقرار کر ہی دیا کہ وہ بھی ہماری طرح معلومات کے لئے علل کی تلاش میں ہے۔ یہ بھی ایک قسم کا اقرار ہے اگر چہ کمال اقرار نہیں۔ ماسوا اس کے اگر کسی ترکیب سے ایک منکر وجود باری کو ایسے طور سے بے ہوش کیا جائے کہ وہ اس سفلی زندگی کے خیالات سے بالکل الگ ہو کر اور تمام ارادوں سے معطل رہ کر اعلیٰ ہستی کے قبضہ میں ہو جائے تو وہ اس صورت میں خدا کے وجود کا اقرار کرے گا۔ انکار نہیں کرے گا جیسا کہ اس پر بڑے بڑے مجربین کا تجربہ شاہد ہے۔ سوایسی حالت کی طرف اس آیت میں اشارہ ہے اور مطلب آیت یہ ہے کہ انکار وجود باری صرف سفلی زندگی تک ہے ورنہ اصل فطرت میں اقرار بھرا ہوا ہے۔ الاعراف: ۱۷۳