اِسلامی اُصول کی فلاسفی

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 375 of 550

اِسلامی اُصول کی فلاسفی — Page 375

روحانی خزائن جلد ۱۰ ۳۶۹ رَبُّنَا الَّذِي أَعْطَى كُلَّ شَيْءٍ خَلْقَهُ ثُمَّ هَدَى لا اسلامی اصول کی فلاسفی یعنی خدا وہ خدا ہے کہ جس نے ہر ایک شے کے مناسب حال اس کو پیدائش بخشی ۔ پھر اس شے کو اپنے کمالات مطلوبہ حاصل کرنے کے لئے راہ دکھلا دی۔ اب اگر اس آیت کے مفہوم پر نظر رکھ کر انسان سے لے کر تمام بحری اور بری جانوروں اور پرندوں کی بناوٹ تک دیکھا جائے تو خدا کی قدرت یاد آتی ہے کہ ہر ایک چیز کی بناوٹ اس کے مناسب حال معلوم ہوتی ہے۔ پڑھنے والے خودسوچ لیں کیونکہ یہ مضمون بہت وسیع ہے۔ دوسری دلیل خدا تعالیٰ کی ہستی پر قرآن شریف نے خدا تعالیٰ کا علت العلل ہونا قرار دی ہے جیسا کہ وہ فرماتا ہے۔ وَأَنَّ إِلَى رَبِّكَ الْمُنْتَهى ! یعنی تمام سلسلہ عمل و معلولات کا تیرے رب پر ختم ہو جاتا ہے۔ تفصیل اس دلیل کی یہ ہے کہ نظر تعمق سے معلوم ہوگا کہ یہ تمام موجودات علل و معلول کے سلسلہ سے مربوط ہے۔ اسی وجہ سے دنیا میں طرح طرح کے علوم پیدا ہو گئے ہیں کیونکہ کوئی حصہ مخلوقات کا نظام سے مکے باہر نہیں ۔ بعض بعض کے لئے بطور اصول اور بعض بطور فروع کے ہیں اور یہ تو ظاہر ہے کہ علت یا تو خود اپنی ذات سے قائم ہوگی یا اس کا وجود کسی دوسری علت کے وجود پر منحصر ہوگا اور پھر یہ دوسری علت کسی اور علت پر ، وعلی ھذا القیاس اور یہ تو جائز نہیں کہ اس محدود دنیا میں علل و معلول کا سلسلہ کہیں جا کر ختم نہ ہو اور غیر متناہی ہو۔ تو بالضرورت ماننا پڑا کہ یہ سلسلہ ضرور کسی اخیر علت پر جا کر ختم ہو جاتا ہے۔ پس جس پر اس تمام سلسلہ کی انتہا ہے وہی خدا ہے ۔ آنکھ کھول کر دیکھ لو کہ آیت وَاَنَّ إِلى رَبِّكَ الْمُنْتَهى اپنے مختصر لفظوں میں کس طرح اس دلیل مذکور بالا کو بیان فرمارہی ہے جس کے یہ معنی ہیں کہ انتہا تمام سلسلہ کی تیرے رب تک ہے۔ پھر ایک اور دلیل اپنی ہستی پر یہ دی جیسا کہ فرماتا ہے۔ طه : ۵۱ النجم: ٤٣