اِسلامی اُصول کی فلاسفی

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 371 of 550

اِسلامی اُصول کی فلاسفی — Page 371

روحانی خزائن جلد ۱۰ ۳۶۵ اسلامی اصول کی فلاسفی ہے اور پھر ان شیشوں کے نیچے پانی چھوڑا گیا ہے جو نہایت تیزی سے چل رہا ہے۔ اب ہر ایک نظر جو شیشوں پر پڑتی ہے وہ اپنی غلطی سے ان شیشوں کو بھی پانی سمجھ لیتی ہے اور پھر انسان ان شیشوں پر چلنے سے ایسا ڈرتا ہے جیسا کہ پانی سے ڈرنا چاہیے حالانکہ وہ درحقیقت شیشے ہیں مگر صاف شفاف ۔ سو یہ بڑے بڑے اجرام جو نظر آتے ہیں جیسے آفتاب و ماہتاب وغیرہ۔ یہ وہی صاف شیشے ہیں جن کی غلطی سے پرستش کی گئی اور ان کے نیچے ایک اعلیٰ طاقت کام کر رہی ہے جوان شیشوں کے پردہ میں پانی کی طرح بڑی تیزی سے چل رہی ہے اور مخلوق پرستوں کی نظر کی یہ غلطی ہے کہ انہیں شیشوں کی طرف کام کو منسوب کر رہے ہیں جو ان کے نیچے کی طاقت دکھلا رہی ہے۔ یہی تفسیر اس آیت کریمہ کی ہے۔ إِنَّهُ صَرْحٌ مُّمَرَّدٌ مِّنْ قَوَارِيرَ غرض چونکہ خدا تعالیٰ کی ذات باوجود نہایت روشن ہونے کے پھر بھی نہایت مخفی ہوتی ہے۔ اس لئے اس کی شناخت کے لئے صرف یہ نظام جسمانی جو ہماری نظروں کے سامنے ہے کافی نہ تھا اور یہی وجہ ہے کہ ایسے نظام پر مدار رکھنے والے باوجود یکہ اس ترتیب املغ اور محکم کو جو صد با عجائبات پر مشتمل ہے نہایت غور کی نظر سے دیکھتے رہے بلکہ ہیئت اور طبعی اور فلسفہ میں وہ مہارتیں پیدا کیں کہ گویا زمین و آسمان کے اندر دھس گئے مگر پھر بھی شکوک و شبہات کی تاریکی سے نجات نہ پاسکے اور اکثر ان کے طرح طرح کی خطاؤں میں مبتلا ہو گئے اور بیہودہ اوہام میں پڑ کر کہیں کے کہیں چلے گئے اور اگر ان کو اس صانع کے وجود کی طرف کچھ خیال بھی آیا تو بس اس قدر کہ اس اعلیٰ اور عمدہ نظام کو دیکھ کر یہ ان کے دل میں پڑا کہ اس عظیم الشان سلسلہ کا جو ' پر حکمت نظام اپنے ساتھ رکھتا ہے کوئی پیدا کرنے والا ضرور چاہیے مگر ظاہر ہے کہ یہ خیال نا تمام اور یہ معرفت ناقص ہے کیونکہ یہ کہنا کہ اس سلسلہ کے لئے ایک خدا کی ضرورت ہے اس دوسرے کلام سے ہرگز مساوی نہیں کہ وہ خدا در حقیقت ہے بھی۔ غرض یہ ان کی صرف قیاسی معرفت تھی جو دل کو اطمینان اور سکینت نہیں بخش سکتی اور نہ شکوک ا النمل : ۴۵