اِسلامی اُصول کی فلاسفی — Page 370
روحانی خزائن جلد ۱۰ ۳۶۴ اسلامی اصول کی فلاسفی ہستی کی تلاش ہے جس کے لئے اندر ہی اندر انسان کے دل میں ایک کشش موجود ہے اور اس تلاش کا اثر اسی وقت سے ہونے لگتا ہے جبکہ بچہ ماں کے پیٹ سے باہر آ تا ہے کیونکہ بچہ پیدا ہوتے ہی پہلے روحانی خاصیت اپنی جو دکھاتا ہے وہ یہی ہے کہ ماں کی طرف جھکا جاتا ہے اور طبعا اپنی ماں کی محبت رکھتا ہے اور پھر جیسے جیسے حواس اس کے کھلتے جاتے ہیں اور شگوفہ فطرت اس کا کھلتا جاتا ہے یہ کشش محبت جو اس کے اندر چھپی ہوئی تھی اپنا رنگ روپ نمایاں طور پر دکھاتی چلی جاتی ہے۔ پھر تو یہ ہوتا ہے کہ بجز اپنی ماں کی گود کے کسی جگہ آرام نہیں پاتا اور پورا آرام اس کا اسی کے کنار عاطفت میں ہوتا ہے اور اگر ماں سے علیحدہ کر دیا جائے اور دور ڈال دیا جائے تو تمام عیش اس کا تلخ ہو جاتا ہے اور اگر چہ اس کے آگے نعمتوں کا ایک ڈھیر ڈال دیا جاوے تب بھی وہ اپنی سچی خوشحالی ماں کی گود میں ہی دیکھتا ہے اور اس کے بغیر کسی طرح آرام نہیں پاتا۔ سو وہ کشش محبت جو اس کو اپنی ما کی طرف پیدا ہوتی ہے۔ وہ کیا چیز ہے؟ در حقیقت یہ وہی کشش ہے جو معبود حقیقی کے لئے بچہ کی فطرت میں رکھی گئی ہے بلکہ ہر ایک جگہ جو انسان تعلق محبت پیدا کرتا ہے درحقیقت وہی کشش کام کر رہی ہے اور ہر ایک جگہ جو یہ عاشقانہ جوش دکھلاتا ہے درحقیقت اسی محبت کا وہ ایک عکس ہے گویا دوسری چیزوں کو اُٹھا اُٹھا کر ایک گم شدہ چیز کی تلاش کر رہا ہے جس کا اب نام بھول گیا ہے۔ سوانسان کا مال یا اولا دیا بیوی سے محبت کرنا یا کسی خوش آواز کے گیت کی طرف اس کی روح کا کھینچے جانا درحقیقت اسی گمشدہ محبوب کی تلاش ہے اور چونکہ انسان اس دقیق در دقیق ہستی کو جو آگ کی طرح ہر ایک میں مخفی اور سب پر پوشیدہ ہے اپنی جسمانی آنکھوں سے دیکھ نہیں سکتا اور نہ اپنی نا تمام عقل سے اس کو پا سکتا ہے۔ اس لئے اس کی معرفت کے بارے میں انسان کو بڑی بڑی غلطیاں لگی ہیں۔ اور سہو کاریوں سے اس کا حق دوسرے کو دیا گیا ہے۔ خدا نے قرآن شریف میں یہ خوب مثال دی ہے کہ دنیا ایک ایسے شیش محل کی طرح ہے جس کی زمین کا فرش نہایت مصفی شیشوں سے کیا گیا حملہ اصل مسودہ میں ” سے محسوس ہونے “ کے الفاظ مرقوم ہیں ۔ ( ناشر )