اِسلامی اُصول کی فلاسفی — Page 372
روحانی خزائن جلد ۱۰ ۳۶۶ اسلامی اصول کی فلاسفی کو بکلی دل پر سے اٹھا سکتی ہے اور نہ یہ ایسا پیالہ ہے جس سے وہ پیاس معرفت تامہ کی سمجھ (۳۹) سکے جو انسان کی فطرت کو لگائی گئی ہے بلکہ ایسی معرفت ناقصہ نہایت پر خطر ہوتی ہے کیونکہ بہت شور ڈالنے کے بعد پھر آخری اور نتیجہ ندارد ہے۔ غرض جب تک خود خدائے تعالیٰ اپنے موجود ہونے کو اپنے کلام سے ظاہر نہ کرے جیسا کہ اس نے اپنے کام سے ظاہر کیا تب تک صرف کام کا ملاحظہ تسلی بخش نہیں ہے ۔ مثلاً اگر ہم ایک ایسی کوٹھڑی کو دیکھیں جس میں یہ بات عجیب ہو کہ اندر سے کنڈیاں لگائی گئی ہیں تو اس فعل سے ہم ضرور اول یہ خیال کریں گے کہ کوئی انسان اندر ہے جس نے اندر سے زنجیر کو لگایا ہے کیونکہ باہر سے اندر کی زنجیروں کو لگانا غیر ممکن ہے لیکن جب ایک مدت تک بلکہ برسوں تک با وجود بار بارآواز دینے کے اس انسان کی طرف سے کوئی آواز نہ آوے تو آخر یہ رائے ہماری کہ کوئی اندر سے بدل جائے گی۔ اور یہ خیال کریں گے کہ اندر کوئی نہیں بلکہ کسی حکمت عملی سے اندر کی کنڈیاں لگائی گئی ہیں۔ یہی حال ان فلاسفروں کا ہے جنہوں نے صرف فعل کے مشاہدہ پر اپنی معرفت کو ختم کر دیا ہے یا بڑی غلطی ہے جو خدا کو ایک مردہ کی طرح ہم جس کو قبر سے نکالنا صرف انسان کا کام ہے۔ اگر خدا ایسا ہے جو صرف انسانی کوشش نے اس کا پتہ لگایا ہے تو ایسے خدا کی نسبت ہماری سب امید میں عبث ہیں بلکہ خدا تو وہی ہے جو ہمیشہ سے اور قدیم سے آپ انا الموجود کہہ کر لوگوں کو اپنی طرف بلاتا رہا ہے۔ یہ بڑی گستاخی ہوگی کہ ہم ایسا خیال کریں کہ اس کی معرفت میں انسان کا احسان اس پر ہے اور اگر فلاسفر نہ ہوتے تو گویا وہ گم کا گم ہی رہتا اور یہ کہنا کہ خدا کیوں کر بول سکتا ہے کیا اُس کی زبان ہے؟ یہ بھی ایک بڑی بے باکی ہے۔ کیا اس نے جسمانی ہاتھوں کے بغیر تمام آسمانی اجرام اور زمین کو نہیں بنایا۔ کیا وہ جسمانی آنکھوں کے بغیر تمام دنیا کو نہیں دیکھتا۔ کیا وہ جسمانی کانوں کے بغیر ہماری آواز میں نہیں سنتا۔ پس کیا یہ ضروری نہ تھا کہ اسی طرح وہ کلام بھی کرے۔ یہ بات بھی ہرگز صحیح نہیں ہے کہ خدا کا کلام کرنا آگے نہیں بلکہ پیچھے رہ گیا ہے۔ ہم اس کے کلام اور مخاطبات پر کسی زمانہ تک مہر نہیں لگاتے۔ بے شک وہ اب بھی ڈھونڈنے والوں کو الہامی اصل مسودہ میں ” یہ بڑی غلطی ہے جو خدا کو ایک مردہ کی طرح سمجھا جائے “ کے الفاظ مرقوم ہیں۔(ناشر )