اِسلامی اُصول کی فلاسفی — Page 355
روحانی خزائن جلد ۱۰ ۳۴۹ اسلامی اصول کی فلاسفی فرماتا ہے۔ وَأَصْلِحُوا ذَاتَ بَيْنِكُمْ وَالصُّلْحُ خَيْرٌ وَإِنْ جَنَحُوْا لِلسَّلْمِ فَاجْنَحْ لَهَا وَعِبَادُ الرَّحْمَنِ الَّذِينَ يَمْشُونَ عَلَى الْأَرْضِ هَوْنًا وَإِذَا مَرُوا بِاللَّغْوِ مَرُّوا كِرَامًا اِدْفَعْ بِالَّتِي هِيَ أَحْسَنُ فَإِذَا الَّذِي بَيْنَكَ وَبَيْنَهُ عَدَاوَةٌ كَانَهُ وَفِي حَمِيمٌ یعنی آپس میں صلح کاری اختیار کرو ۔ صلح میں خیر ہے۔ جب وہ صلح کی طرف جھکیں تو تم بھی جھک جاؤ ۔ خدا کے نیک بندے صلح کاری کے ساتھ زمین پر چلتے ہیں اور اگر کوئی لغو بات کسی سے سنیں جو جنگ کا مقدمہ اور لڑائی کی ایک تمہید ہو تو بزرگانہ طور پر طرح دے کر چلے جاتے ہیں اور ادنی ادنی بات پر لڑنا شروع نہیں کر دیتے یعنی جب تک کوئی زیادہ تکلیف نہ پہنچے اس وقت تک ہنگامہ پردازی کو اچھا نہیں سمجھتے اور صلح کاری کے محل شناسی کا یہی اصول ہے کہ ادنی ادنی باتوں کو خیال میں نہ لاویں اور معاف فرماویں اور لغو کا لفظ جو اس آیت میں آیا ہے سو واضح ہو کہ عربی زبان میں لغو اس حرکت کو کہتے ہیں کہ مثلاً ایک شخص شرارت سے ایسی بکواس کرے یا بہ نیت ایڈا ایسا فعل اس سے صادر ہو کہ دراصل اس سے کچھ ایسا حرج اور نقصان نہیں پہنچتا۔ سو صلح کاری کی یہ علامت ہے کہ ایسی بیہودہ ایڈا سے چشم پوشی فرمادیں اور بزرگا نہ سیرت عمل میں لاویں لیکن اگر ایڈ ا صرف لغو کی مد میں داخل نہ ہو بلکہ اس سے واقعی طور پر جان یا مال یا عزت کو ضرر پہنچے تو صلح کاری کے خلق کو اس سے کچھ تعلق نہیں بلکہ اگر ایسے گناہ کو بخشا جائے تو اس خلق کا نام عفو ہے جس کا انشاء اللہ تعالیٰ اس کے بعد بیان ہوگا اور پھر فرمایا کہ جو شخص شرارت سے کچھ یاوہ گوئی کرے تو تم نیک طریق سے صلح کاری کا اس کو جواب دو۔ تب اس خصلت سے دشمن بھی دوست ہو جائے گا۔ غرض صلح کاری کے طریق سے چشم پوشی کا حل صرف اس درجہ کی بدی ہے جس سے کوئی واقعی نقصان نہ پہنچا ہو صرف دشمن کی بے ہودہ گوئی ہو ۔ الانفال: ۲۲ النساء : ۱۲۹ ۳ الانفال : ٦٢ ٢ الفرقان: ۵۶۴ :الفرقان: ۱۲ حم السجدة : ۳۵