اِسلامی اُصول کی فلاسفی — Page 354
روحانی خزائن جلدها ۳۴۸ اسلامی اصول کی فلاسفی اچھی چیزوں کے عوض میں خبیث اور ردی چیزیں نہ دیا کرو یعنی جس طرح دوسروں کا مال دبا لینا نا جائز ہے اسی طرح خراب چیزیں بیچنا یا اچھی کے عوض میں بری دینا بھی نا جائز ہے۔ ان تمام آیات میں خدا تعالیٰ نے تمام طریقے بددیانتی کے بیان فرما دیئے اور ایسا کلام کلی کے طور پر فرمایا جس میں کسی بددیانتی کا ذکر باہر نہ رہ جائے ۔ صرف یہ نہیں کہا کہ تو چوری نہ کر تا ایک نادان یہ نہ سمجھ لے کہ چوری میرے لئے حرام ہے مگر دوسرے ناجائز طریقے سب حلال ہیں۔ اس کلمہ جامع کے ساتھ تمام نا جائز طریقوں کو حرام ٹھہرانا یہی حکمت بیانی ہے۔ غرض اگر کوئی اس بصیرت سے دیانت اور امانت کا خُلق اپنے اندر نہیں رکھتا اور ایسے تمام پہلوؤں کی رعایت نہیں کرتا وہ اگر دیانت و امانت کو بعض امور میں دکھلائے بھی تو یہ حرکت اس کی خلق دیانت میں داخل نہیں سمجھی جائے گی بلکہ ایک طبعی حالت ہوگی جو عقلی تمیز اور بصیرت سے خالی ہے۔ تیسری قسم ترک شر کی اخلاق میں سے وہ قسم ہے کہ جس کو عربی میں دنــه اور ھون کہتے ہیں یعنی دوسرے کو ظلم کی راہ سے بدنی آزار نہ پہنچانا اور بے شر انسان ہونا اور صلح کاری کے ساتھ زندگی بسر کرنا۔ پس بلا شبہ صلح کاری اعلیٰ درجہ کا ایک خلق ہے اور انسانیت کے لئے از بس ضروری۔ اور اس خلق کے مناسب حال طبعی قوت جو بچہ میں ہوتی ہے جس کی تعدیل سے یہ خلق بنتا ہے الفت یعنی خوگرفتگی ہے ۔ یہ تو ظاہر ہے کہ انسان صرف ۲۸ طبعی حالت میں یعنی اس حالت میں کہ جب انسان عقل سے بے بہرہ ہو صلح کے مضمون کو سمجھ نہیں سکتا اور نہ جنگ جوئی کے مضمون کو سمجھ سکتا ہے۔ پس اس وقت جو ایک عادت موافقت کی اس میں پائی جاتی ہے وہی صلح کاری کی عادت کی ایک جڑا لیکن چونکہ وہ عقل اور تدبر اور خاص ارادہ سے اختیار نہیں کی جاتی اس لئے خلق میں داخل نہیں بلکہ خلق میں تب داخل ہوگی کہ جب انسان بالا رادہ اپنے تئیں بے شر بنا کر صلح کاری کے خلق کو اپنے محل پر استعمال کرے اور بے محل استعمال کرنے سے مجتنب رہے۔ اس میں اللہ جل شانہ یہ تعلیم یا اصل مسودہ میں ” جڑھ ہے “ کے الفاظ مرقوم ہیں۔(ناشر )