اِسلامی اُصول کی فلاسفی — Page 356
روحانی خزائن جلد ۱۰ ۳۵۰ اسلامی اصول کی فلاسفی چوتھی قسم ترک شر کی اخلاق میں سے رفق اور قول حسن ہے اور یہ خلق جس حالت طبعی سے پیدا ہوتا ہے اس کا نام طلاقت یعنی کشادہ روئی ہے ۔ بچہ جب تک کلام (۲۹) کرنے پر قادر نہیں ہوتا۔ بجائے رفق اور قول حسن کے طلاقت دکھلاتا ہے۔ یہی دلیل اس بات پر ہے کہ رفق کی جڑ جہاں سے یہ شاخ پیدا ہوتی ہے طلاقت ہے۔ طلاقت ایک قوت ہے اور رفق ایک خلق ہے جو اس قوت کو محل پر استعمال کرنے سے پیدا ہو جاتا ہے۔ اس میں خدا تعالی کی تعلیم یہ ہے۔ وَقُولُوا لِلنَّاسِ حُسُنَّا لَا يَسْخَرُ قَوْمٌ مِّنْ قَوْمٍ عَلَى أَنْ يَكُونُوا ج خَيْرًا مِّنْهُمْ وَلَانِسَاءٍ مِّنْ نِّسَاءِ عَلَى أَنْ يَكُنَّ خَيْرًا مِنْهُنَّ : وَلَا تَلْمِزُوا أَنْفُسَكُمْ وَلَا تَنَابَزُوا بِالْأَلْقَابِ اجْتَنِبُوا كَثِيرًا مِّنَ الظَّنِّ إِنَّ بَعْضَ الظَّنِّ إِثْمٌ وَلَا تَجَسَّسُوا وَلَا يَغْتَبْ بَّعْضُكُمْ ۔۔ وَاتَّقُوا اللهَ إِنَّ اللَّهَ تَوَّابٌ رَّحِيمٌ ٣ وَلَا تَقْفُ مَا لَيْسَ لَكَ بِهِ عِلْمٌ ۖ إِنَّ السَّمْعَ وَالْبَصَرَ وَالْفُؤَادَ كُلُّ أُولَيْكَ بَعْضًا۔ كَانَ عَنْهُ مَسْئُولًا ترجمہ: یعنی لوگوں کو وہ باتیں کہو جو واقعی طور پر نیک ہوں ۔ ایک قوم دوسری قوم سے ٹھٹھا نہ کرے ہو سکتا ہے کہ جن سے ٹھٹھا کیا گیا ہے وہی اچھے ہوں۔ بعض عورتیں بعض عورتوں سے ٹھٹھا نہ کریں ہو سکتا ہے کہ جن سے ٹھٹھا کیا گیا ہے وہی اچھی ہوں اور عیب مت لگاؤ۔ اپنے لوگوں کے برے برے نام مت رکھو۔ بدگمانی کی باتیں مت کرو اور نہ عیبوں کو کرید کرید کر پوچھو ۔ ایک دوسرے کا گلہ مت کرو ۔ کسی کی نسبت وہ بہتان یا الزام مت لگاؤ جس کا تمہارے پاس کوئی ثبوت نہیں اور یاد رکھو کہ ہر ایک عضو سے مواخذہ ہوگا اور کان، آنکھ، دل ہر ایک سے پوچھا جائے گا۔ البقرة : ۸۴ الحجرات: ١٢ الحجرات: ١٣ بنی اسرائیل: ۳۷