اِسلامی اُصول کی فلاسفی

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 338 of 550

اِسلامی اُصول کی فلاسفی — Page 338

روحانی خزائن جلد ۱۰ ۳۳۲ اسلامی اصول کی فلاسفی لوامہ کی حالت تک پہنچانے کیلئے صرف سرسری نصائح کافی نہیں ہوتیں بلکہ ضروری ہوتا ہے کہ اس کو خدا شناسی کا اس قدر حصہ ملے جس سے وہ اپنی پیدائش بیہودہ اور لغو خیال نہ کرے تا معرفت الہی سے سچے اخلاق اس میں پیدا ہوں ۔ اسی وجہ سے خدا تعالیٰ نے ساتھ ساتھ سچے خدا کی معرفت کیلئے توجہ دلائی ہے اور یقین دلایا ہے کہ ہر ایک عمل اور مخلق ایک نتیجہ رکھتا ہے جو اس زندگی میں روحانی راحت یا روحانی عذاب کا موجب ہوتا ہے اور دوسری زندگی میں کھلے کھلے طور پر اپنا اثر دکھائے گا۔ غرض نفس لوامہ کے درجہ پر انسان کو عقل اور معرفت اور پاک کانشنس سے اس قدر حصہ حاصل ہوتا ہے کہ وہ برے کام پر اپنے تئیں ملامت کرتا ہے اور نیک کام کا خواہشمند اور حریص رہتا ہے۔ یہ وہی درجہ ہے کہ جس میں انسان اخلاق فاضلہ حاصل کرتا ہے۔ خلق اور خلق اس جگہ بہتر ہوگا کہ میں خلق کے لفظ کی بھی کسی قدر تعریف کر دوں ۔ سو جاننا چاہیے کہ خلق خا کی فتح سے ظاہری پیدائش کا نام ہے اور خلق خاکے ضمہ سے باطنی پیدائش کا نام ہے اور چونکہ باطنی پیدائش اخلاق سے ہی کمال کو پہنچتی ہے نہ صرف طبعی جذبات سے۔ اس لئے اخلاق پر ہی یہ لفظ بولا گیا ہے طبعی جذبات پر نہیں بولا گیا۔ اور پھر یہ بات بھی بیان کر دینے کے لائق ہے کہ جیسا کہ عوام الناس خیال کرتے ہیں کہ خلق صرف حلیمی اور نرمی اور انکسار ہی کا نام ہے یہ ان کی غلطی ہے بلکہ جو کچھ بمقابلہ ظاہری اعضاء کے باطن میں انسانی کمالات کی کیفیتیں رکھی گئی ہیں ان سب کیفیتوں کا نام خلق ہے مثلاً انسان آنکھ سے روتا ہے اور اس کے مقابل پر دل میں ایک قوت رقت ہے وہ جب بذریعہ عقل خداداد کے اپنے محل پر مستعمل ہو تو وہ ایک خلق ہے۔ ایسا ہی انسان ہاتھوں دشمن کا مقابلہ کرتا ہے اور اس حرکت ا ہے اور اس حرکت کے مقابل پر دل میں ایک قوت ہے جس کو شجاعت کہتے ہیں۔ جب انسان محل پر اور موقع کے لحاظ سے اس قوت کو استعمال میں لاتا ہے تو اس کا نام بھی خلق ہے اور ایسا ہی انسان کبھی ہاتھوں کے ذریعہ سے مظلوموں کو ظالموں سے بچانا چاہتا ہے یا ناداروں اور بھوکوں کو کچھ دینا چاہتا ہے یا کسی اور طرح سے بنی نوع دو ☆ حاصل مسودہ میں ” ہاتھوں سے دشمن “ کے الفاظ مرقوم ہیں۔ (ناشر)