اِسلامی اُصول کی فلاسفی

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 339 of 550

اِسلامی اُصول کی فلاسفی — Page 339

روحانی خزائن جلدها ۳۳۳ اسلامی اصول کی فلاسفی کی خدمت کرنا چاہتا ہے اور اس حرکت کے مقابل پر دل میں ایک قوت ہے جس کو رحم بولتے ہیں اور کبھی انسان اپنے ہاتھوں کے ذریعہ سے ظالم کو سزا دیتا ہے اور اس حرکت کے مقابل پر دل میں ایک قوت ہے جس کو عفو اور صبر کہتے ہیں اور کبھی انسان بنی نوع کو فائدہ پہنچانے کے لئے اپنے ہاتھوں سے کام لیتا ہے یا پیروں سے یا دل اور دماغ سے اور ان کی بہبودی کے لئے اپنا سرمایہ خرچ کرتا ہے تو اس حرکت کے مقابل پر دل میں ایک قوت ہے جس کو سخاوت کہتے ہیں۔ پس جب انسان ان تمام قوتوں کو موقع اور محل کے لحاظ سے استعمال کرتا ہے تو اس وقت ان کا نام خلق رکھا جاتا ہے ۔ اللہ جل شـانـه ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو مخاطب کر کے فرماتا ہے۔ إِنَّكَ لَعَلَى خُلُقٍ عَظِيمٍ ب ٢٣ یعنی تو ایک بزرگ مخلق پر قائم ہے۔ سواسی تشریح کے مطابق اس کے معنے ہیں یعنی یہ کہ تمام قسمیں اخلاق کی سخاوت، شجاعت ، عدل، رحم، احسان ، صدق، حوصلہ وغیرہ تجھ میں جمع ہیں۔ غرض جس قدر انسان کے دل میں قو تیں پائی جاتی ہیں جیسا کہ ادب ، حیا، دیانت، مروت، غیرت، استقامت، عفت، زہادت، اعتدال، مؤاسات یعنی ہمدردی ۔ ایسا ہی شجاعت، سخاوت، عفو، صبر، احسان، صدق، وفا وغیرہ جب یہ تمام طبعی حالتیں عقل اور تدبر کے مشورہ سے اپنے اپنے محل اور موقع پر ظاہر کی جائیں گی تو سب کا نام اخلاق ہوگا ۔ اور یہ تمام اخلاق در حقیقت انسان کی طبعی حالتیں اور طبیعی جذبات ہیں اور صرف اس وقت اخلاق کے نام سے موسوم ہوتے ہیں کہ جب محل اور موقعہ کے لحاظ سے بالا را دو ان کو استعمال کیا جائے چونکہ انسان کے طبعی خواص میں سے ایک یہ بھی خاصہ ہے کہ وہ ترقی پذیر جاندار ہے اس لئے وہ بچے مذہب کی پیروی اور نیک صحبتوں اور نیک تعلیموں سے ایسے طبعی جذبات کو اخلاق کے رنگ میں لے اصل مسودہ میں ایک قوت ہے جس کو انتقام کہتے ہیں اور کبھی انسان حملہ کے مقابل پر حملہ کرنا نہیں چاہتا اور ظالم کے ظلم سے درگزر کرتا ہے اور اس حرکت کے مقابل پر “ کے الفاظ بھی مرقوم ہیں ۔ ( ناشر ) القلم : ۵