اِسلامی اُصول کی فلاسفی

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 337 of 550

اِسلامی اُصول کی فلاسفی — Page 337

روحانی خزائن جلد ۱۰ ۳۳۱ اسلامی اصول کی فلاسفی کو غور سے دیکھنا چاہیے کہ وہ کیسے پیدا ہوتے ہی انسانی عادتیں دکھلا نا شروع کر دیتا ہے اور پھر جب برس ڈیڑھ برس کا ہوا تو وہ عادات طبعیہ بہت نمایاں ہو جاتی ہیں مثلاً پہلے جس طور سے روتا تھا اب رونا بہ نسبت پہلے کے کسی قدر بلند ہو جاتا ہے۔ ایسا ہی ہنسنا قہقہ کی حد تک پہنچ جاتا ہے اور آنکھوں میں بھی عمداد یکھنے کے آثار پیدا ہو جاتے ہیں اور اس عمر میں یہ ایک اور امر طبعی پیدا ہو جاتا ہے کہ اپنی رضا مندی یا نا رضا مندی حرکات سے ظاہر کرتا ہے اور کسی کو مارتا اور کسی کو کچھ دینا چاہتا ہے مگر یہ تمام حرکات در اصل طبعی ہوتی ہیں۔ پس ایسے بچہ کی مانند ایک وحشی آدمی بھی ہے جس کو انسانی تمیز سے بہت ہی کم حصہ ملا ہے۔ وہ بھی اپنے ہر ایک قول اور فعل اور حرکت اور سکون میں طبعی حرکات ہی دکھلاتا ہے اور اپنی طبیعت کے جذبات کا تابع رہتا ہے۔ کوئی بات اس کے اندرونی قومی کے تدبر اور تفکر سے نہیں نکلتی بلکہ جو کچھ طبعی طور پر اس کے اندر پیدا ہوا ہے وہ خارجی تحریکوں کے مناسب حال نکلتا چلا جاتا ہے۔ یہ ممکن ہے کہ اس کے طبعی جذبات جو اس کے اندر سے کسی تحریک سے باہر آتے ہیں وہ سب کے سب برے نہ ہوں بلکہ بعض ان کے نیک اخلاق سے مشابہ ہوں لیکن عاقلانہ تدبر اور موشگافی کو ان میں دخل نہیں ہوتا اور اگر کسی قدر ہو بھی تو وہ بوجہ غلبہ جذبات طبعی کے قابل اعتبار نہیں ہوتا بلکہ جس طرف کثرت ہے اس طرف کو معتبر سمجھا جائے گا۔ حقیقی اخلاق غرض ایسے شخص کی طرف حقیقی اخلاق منسوب نہیں کر سکتے جس پر جذبات طبعیہ (۱۵) حیوانوں اور بچوں اور دیوانوں کی طرح غالب ہیں اور جو اپنی زندگی کو قریب قریب وحشیوں کے بسر کرتا ہے بلکہ حقیقی طور پر نیک یا بد اخلاق کا زمانہ اس وقت سے شروع ہوتا ہے کہ جب انسان کی عقل خداداد پختہ ہو کر اس کے ذریعہ سے نیکی اور بدی یا دو بدیوں یا دو نیکیوں کے درجہ میں فرق کر سکے۔ پھر اچھے راہ کے ترک کرنے سے اپنے دل میں ایک حسرت پاوے اور برے کام کے ارتکاب سے اپنے تئیں متقدم اور پشیمان دیکھے۔ یہ انسان کی زندگی کا دوسرا زمانہ ہے جس کو خدا کے پاک کلام قرآن شریف میں نفس لوامہ کے نام سے تعبیر کیا ہے مگر یادر ہے کہ ایک وحشی کو نفس