اِسلامی اُصول کی فلاسفی — Page 325
روحانی خزائن جلد ۱۰ ( ۳۲۲ اسلامی اصول کی فلاسفی زمانہ ہے جس زمانہ تک بچہ رحم کے خلوت خانہ میں رہتا ہے۔ سوجیسا کہ جنین یعنی کہ رحم کے اندر کا بچہ چوتھے مہینے اپنی زندگی کا کرشمہ دکھاتا ہے اور نباتی صورت سے حیوانی صورت میں آجاتا ہے یہی قانون قدرت روحانی پیدائش میں پایا جاتا ہے یعنی جیسا کہ جنین رحم کے خلوت خانہ میں اپنی اندرونی بود و باش کا قریباً آدھا زمانہ بسر کر کے پھر آثار حیات ظاہر کرتا ہے اور زندگی کا پورا جلوہ دکھلاتا ہے یہی صورت روحانی زندگی کے لئے مقدر ہے۔ انسان کی عمدہ زندگی جو اختلال حواس کی کدورتوں اور کثافتوں سے پاک ہے جو باعتبار اکثر اغلب افراد کے اتنی برس تک ہوتی ہے اور اسی کا نصف چالیس ہے جو چار کے لفظ سے بہت مشابہ ہے یعنی اس چار مہینے سے جس کا شمار ختم ہونے پر رحم کے بچہ کو زندگی کی روح ملتی ہے۔ سو تجربہ صحیحہ دلالت کرتا ہے کہ جب انسان اپنی عمدہ زندگی کا نصف حصہ یعنی چالیس برس جو رحم کے چار مہینے سے مشابہ ہے طے کر لیتا ہے یا اس کے سر پر پہنچ جاتا ہے تب اگر اس کے خمیر میں سچائی کی روح ہوتی ہے تو وہ روح اس خاص وقت پر آ کر اپنے نمایاں آثار دکھاتی ہے اور حرکت کرنا شروع کر دیتی ہے ۔ یہ بات کسی پر پوشیدہ نہیں ہو گی کہ چالیس برس سے پہلے اکثر انسان پر ظلمت کا زمانہ غالب رہتا ہے کیونکہ سات آٹھ برس تو طفولیت میں ہی بسر ہوتے ہیں پھر پھپیں چھپیں برس تک علمی تحصیلوں میں مشغول رہتا ہے یا لہو ولعب میں ضائع کرتا ہے اور پھر اس زمانہ کے بعد باعث شادی ہونے اور بیوی بچہ ہو جانے کے یا یوں ہی طبعاً دنیا کی خواہشیں اس پر غلبہ کرتی ہیں اور دنیاوی مالوں اور عزتوں کے لئے طرح طرح کی خواہشیں اور امنگیں پیدا ہوتی ہیں اور لذتوں کے پورا کرنے کے لئے خیال افراط تک پہنچ جاتا ہے اور اگر خدا تعالیٰ کی طرف رجوع بھی کرے تو دنیا کی آرزوئیں کسی قدر