اِسلامی اُصول کی فلاسفی

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 326 of 550

اِسلامی اُصول کی فلاسفی — Page 326

روحانی خزائن جلد ۱۰ ۳۲۲ ب اسلامی اصول کی فلاسفی ساتھ ہوتی ہیں ۔ اگر دعا بھی کرے تو غالباً دنیا کے لئے بہت کرتا ہے اور اگر رووے بھی تو غالباً کچھ دنیا کے اغراض اس میں ملے ہوتے ہیں ۔ معاد کے دن پر بہت کمزور ایمان ہوتا ہے اور اگر ہو بھی تو مرنے میں ابھی لمبا عرصہ معلوم ہوتا ہے اور جس طرح کسی نہر کا بند ٹوٹ کر ارد گرد کی زمین کو تباہ کرتا چلا جاتا ہے اسی طرح نفسانی جذبات کا سیلاب نہایت خطرہ میں زندگی کو ڈال دیتا ہے۔ اس حالت میں وہ معاد کے باریک باریک امور کا کب قائل ہو سکتا ہے بلکہ دینیات پر ہنستا اور ٹھٹھا کرتا ہے اور اپنی خشک منطق اور بیہودہ فلسفہ کو دکھلاتا ہے ۔ ہاں اگر نیک فطرت ہو تو خدا کو بھی مانتا ہے مگر دل کے صدق اور وفا سے نہیں مانتا بلکہ صرف اپنی کامیابیوں کی شرط سے ۔ اگر دنیا کی مرادیں مل گئیں تو خدا کا ورنہ شیطان کا ۔ غرض اس جوانی کی عمر میں بہت نازک حال ہوتا ہے اور اگر خدا کی عنایت دستگیری نہ کرے تو جہنم کے گڑھے میں گر جاتا ہے۔ سچ تو یہ ہے کہ یہی عمر تمام خرابیوں کی جڑ ہے ۔ اس عمر میں انسان اکثر بدنی بیماریاں اور قابل شرم روگ خرید لیتا ہے ۔ اسی کچی عمر کی غلطیوں سے کبھی بچے اور غیر متغیر خدا سے منہ پھیر لیتا ہے ۔ غرض یہ وہ زمانہ ہے جس میں خدا کا خوف کم اور شہوت طالب اور نفس غالب ہوتا ہے اور کسی ناصح کی نہیں سنتا۔ اسی زمانہ کی خطاؤں کا خمیازہ ساری عمر بھگتنا پڑتا ہے ۔ پھر جب چالیس برس تک پہنچتا ہے تو جوانی کے پر و بال کچھ کچھ گرنے شروع ہو جاتے ہیں ۔ اب خود ہی ان بہت سی خطاؤں پر نادم ہوتا ہے جن پر نصیحت کرنے والے سر پیٹ کر رہ گئے تھے ۔ اور خود بخو دنفس کے جوش کم ہوتے چلے جاتے ہیں کیونکہ جسمانی حالت کی رو سے انحطاط