اِعجاز المسیح

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page xxx of 822

اِعجاز المسیح — Page xxx

ان کے اس غیر معقول اور بے دلیل دعویٰ کی حضرت اقدس علیہ السلام نے اس کتاب میں نہایت احسن طور پر تردید فرمائی۔اِسی اثناء میں پیر مہر علی شاہ کی طرف سے ایک کتاب سیف چشتیائی شائع ہوئی جس میں اُس نے ’’اعجاز المسیح‘‘ کے بالمقابل تفسیر لکھنے کی بجائے اعجاز المسیح پر بیہودہ نکتہ چینیاں کی تھیں اور اعجاز المسیح کے چند فقروں کے متعلق لکھا تھا کہ وہ بعض امثلہ عرب اور مقامات حریری وغیرہ سے سرقہ کئے گئے ہیں۔نیز لکھا تھا کہ چونکہ آپ کی وحی وحئ نبوت نہیں کیوں نہ اِسے از قبیل اضغاثِ احلام سمجھا جائے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے ان کی ان بیہودہ نکتہ چینیوں کا اس کتاب میں مفصّل و مدلّل اور مُسکت جواب دیا ہے اور اپنی وحی کو یقینی اور قطعی رحمانی وحی ثابت کیا ہے اور الہام رحمانی کی گیارہ فیصلہ کن نشانیاں تحریر فرمائی ہیں (دیکھو صفحہ ۴۹۲،۴۹۳ جلد ھٰذا) پھر اپنے یقینی الہامات میں سے جو خوارق اور غیب کی خبروں پر مشتمل تھے ان میں سے بطور نمونہ ایک سو تیئیس پیشگوئیوں کو جو پوری ہوئیں ذکر فرمایا ہے۔پیر مہر علی شاہ صاحب نے جو آپ پر سرقہ کا الزام لگایا تھا اس کا علمی اور تحقیقی جواب دیتے ہوئے حضرت اقدس علیہ السلام فرماتے ہیں کہ محل اور موقع کے مناسب اقتباس بھی فنِّ بلاغت میں سے شمار کیا گیا ہے۔اسی طرح توارد بھی مسلّمہ ادباء و شعراء ہے اور اسے سرقہ نہیں کہا جاتاورنہ سرقہ کے الزام سے کوئی نہیں بچا۔نہ خدا کی کتابیں اور نہ انسانوں کی کتابیں۔لیکن اس جگہ تو اﷲ تعالیٰ نے اپنے خاص تصرّف سے یہ انکشاف فرما دیا کہ پیر مہر علی شاہ صاحب گولڑوی جس نے سرقہ کا الزام لگایا تھا وہ خود سارق ثابت ہوا۔پیر مہر علی شاہ صاحب نے اپنی کتاب سیف چشتیائی میں جو اعجاز المسیح اور شمس بازغہ پر نکتہ چینیاں اور اعتراضات کئے تھے وہ درحقیقت مولوی محمد حسن فیضی کے نوٹوں کی ہوبہو نقل تھے جو اس نے بطور یادداشت کتاب اعجاز المسیح اور شمس بازغہ کے حواشی پر لکھے تھے۔جو پیر صاحب نے اپنی علمیت جتانے کے لئے ان کی طرف منسوب کرنے کی بجائے اپنی طرف منسوب کر کے شائع کر دیئے اور ا س کی اطلاع میاں شہاب الدین اور مولوی کرم دین سکنہ بھیں نے خطوط کے ذریعہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام اور مولوی فضل الدین صاحب بھیروی کو دی اور آخرکار وہ اصل کتابیں جن پر محمد حسن فیضی نے نوٹ لکھے تھے خرید کر لی گئیں اور اس طرح پیر مہر علی شاہ صاحب خود سارق ثابت ہوئے اور اس رنگ میں آپ کے الہام انّی مھین من اراد اھانتک میں مندرجہ پیشگوئی