اِعجاز المسیح — Page xxxi
نہایت شان سے پوری ہوئی۔حضرت اقدسؑ نے میاں شہاب الدین اور مولوی کرم دین کی وہ خط و کتابت جس میں انہوں نے پیر مہر علی شاہ صاحب کے سرقہ کا ذکر کیا تھا۔اس کتاب (نزول المسیح) میں شائع کر دی۔(دیکھو حاشیہ صفحہ ۴۵۰تا۴۵۸ جلد ھٰذا) یہ کتاب جولائی اور اگست ۱۹۰۲ء میں زیر تصنیف تھی۔ملاحظہ ہو صفحہ ۴۹۵ جس میں ۱۰؍ اگست ۱۹۰۲ء اور صفحہ ۵۱۰ جس میں ۲۰؍ اگست ۱۹۰۲ء کی تاریخ تحریر فرمائی ہے اور ساتھ ساتھ یہ کتاب چھپ بھی رہی تھی۔اسی اثناء میں وہی خطوط جو حضرت اقدسؑ نے اس میں شائع کئے تھے حضرت شیخ یعقوب علی صاحبؓ نے اپنے اخبار الحکم مؤرخہ ۱۷؍ ستمبر ۱۹۰۲ء میں شائع کر دیئے۔جس پر مولوی کرم دین بگڑ گیاکیونکہ اُس نے اپنے ایک خط میں یہ بھی لکھا تھا کہ مصلحت اِسی میں ہے کہ شائع نہ کیا جائے کیونکہ وہ درحقیقت پیر مہر علی شاہ کے مریدوں سے بہت خائف تھا۔الحکم میں اس کے خطوط شائع ہونے پر سراج الاخبار جہلم مؤرخہ ۶؍ اکتوبر ۱۹۰۲ء میں ایک خط اور ۱۳؍ اکتوبر ۱۹۰۲ء میں ایک قصیدہ مولوی کرم دین صاحب کے نام سے شائع ہوا جس میں اُس نے یہ ظاہر کیا کہ یہ خطوط جعلی اور جھوٹے ہیں۔اس کے لکھے ہوئے نہیں اور لکھا کہ مرزا غلام احمد کی ملہمیت کی آزمائش کے لئے مَیں نے انہیں دھوکا دیا تھا وغیرہ۔اس پر حکیم فضل الدین صاحب مالک و مہتمم ضیاء الاسلام پریس قادیان نے(جن کے نام مولوی کرم دین نے ابتدائی خطوط لکھے تھے) ۱۴؍ نومبر ۱۹۰۲ء کو گورداسپور کی عدالت میں ان کے خلاف زیر دفعہ ۴۲۰ استغاثہ دائر کر دیا۔دوران مقدمہ ۲۲؍ جون ۱۹۰۳ء کو مولوی کرم دین نے زیر طبع کتاب نزول المسیح کے اوراق پیش کئے اور مستغیث سے تصدیق کروانا چاہی۔جس پر حکیم فضل الدین صاحب نے ۲۹؍ جون ۱۹۰۳ء کو زیر دفعہ ۴۱۱ تعزیرات ہند دوسرا استغاثہ دائر کر دیا اور بیان دیا کہ یہ کتاب بحیثیت مہتمم مطبع ضیاء الاسلام قادیان میری ملکیت تھی اور چونکہ ابھی تک باضابطہ شائع نہیں ہوئی اس لئے یہ مال مسروقہ ہے اور ملزم کرم دین مال مسروقہ کو اپنے قبضہ میں رکھنے کا مجرم ہے۔چونکہ سراج الاخبار کے مضامین میں مولوی کرم دین نے حضرت شیخ یعقوب علی صاحب ایڈیٹر الحکم کے خلاف بھی ہرزہ سرائی کی تھی اس لئے شیخ صاحب موصوف نے بھی مولوی کرم دین صاحب اور مولوی فقیر محمد صاحب ایڈیٹر و مالک سراج الاخبار کے خلاف زیر دفعات ۵۰۰۔۵۰۱و ۵۰۲ ازالہ حیثیت عرفی کا دعویٰ دائر کر دیا۔ان حالات میں جبکہ مولوی کرم دین صاحب اپنے خطوط کے منکر ہو چکے تھے۔حضرت اقدس