اِعجاز المسیح

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page xxix of 822

اِعجاز المسیح — Page xxix

ثابت کرتے۔جب مَیں حیفا میں مقیم تھا اس وقت شیخ رشید رضا نے اپنے رسالہ المنار میں یہ ذکر کیا کہ حضرت مسیح موعود نے ’’سیھزم فلا یُریٰ‘‘ میں اس کی موت کی پیشگوئی کی تھی جو غلط نکلی اس پر مَیں نے اُن کو تفصیلی جواب دیا تھا کہ اِس میں کوئی موت کی پیشگوئی نہ تھی بلکہ یہ پیشگوئی تھی کہ ایڈیٹر المنار ،الہدیٰ جیسی فصیح و بلیغ کتاب لکھنے کی توفیق نہیں پائے گاجیسا کہ اوپر تفصیل سے ذکر کیا گیا ہے اور باوجودیکہ ایڈیٹر المنار، الہدیٰ کی اشاعت کے بعد تیس۳۰ سال سے زائد عرصہ تک زندہ رہالیکن اسے یہ توفیق نہ ملی کہ اس کتاب کے جواب میں بالمقابل کوئی کتاب لکھتااور اﷲ تعالیٰ کی پیشگوئی کمال آب و تاب سے پوری ہوئی۔اِس کتاب کی تالیف ربیع الاول ۱۳۲۰ ہجری میں مکمل ہوئی اور ۱۲؍ جون ۱۹۰۲ء کو چھپ کر شائع ہوئی۔نزول المسیح رسالہ دافع البلاء میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے طاعون کو اپنی صداقت کی علامت قرار دیتے ہوئے یہ پیشگوئی فرمائی تھی کہ قادیان طاعون جارف سے محفوظ رہے گی۔اور مختلف اہلِ مذاہب کو چیلنج کیا تھا کہ وہ بھی چاہیں تو کسی شہر کے طاعون سے محفوظ رہنے کے متعلق پیشگوئی کر سکتے ہیں۔مگر جس شہر کے متعلق بھی ایسی پیشگوئی کی جائے گی وہ طاعون کا ضرور شکار ہو گا۔دافع البلائکی اشاعت پر ایڈیٹر پیسہ اخبار لاہور نے قادیان کی حفاظت سے متعلق پیشگوئی کو غلط ثابت کرنے کے لئے جھوٹی اور خلاف واقعہ رپورٹیں شائع کیں اور قادیان کی حفاظت سے متعلق پیشگوئی کو اعتراضات کا نشانہ بنایاتب حضرت اقدس علیہ السلام نے اُن کی ان مفتریات کا جواب اس کتاب میں دیا۔اِسی طرح آپ نے دافع البلاء میں لکھا تھا کہ مسیح موعودؑ امام حسینؓ سے افضل ہے اس پر علی حائری لاہوری شیعہ مجتہد نے ایک رسالہ لکھا جس میں امام حسینؓ کو تمام انبیاء سے افضل قرار دیا اور لکھا کہ ’’امام حسین کی وہ شان ہے کہ تمام نبی اپنی مصیبتوں کے وقت میں اسی امام کو اپنا شفیع ٹھہراتے تھے اور اس کی طفیل ان کی مصیبتیں دُور ہوتی تھیں۔ایسا ہی آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم بھی مصیبت کے وقت میں امام حسین کے ہی دست نگر تھے اور آپ کی مصیبتیں بھی امام حسین کی شفاعت سے ہی دُور ہوتی تھیں۔‘‘