اِعجاز المسیح — Page xxi
جھوٹ ظاہر ہو کہ وہ قرآن مجید کا علم رکھتا ہے اور چشمۂ عرفان سے پینے والا اور صاحبِ خوارق و کرامات ہے۔(دیکھو صفحہ ۳۶۔۳۹جلدھٰذا) مگر پیر مہر علی شاہ صاحب گولڑوی کو اپنے گھر بیٹھ کر بھی بالمقابل تفسیر لکھنے کی جرأت نہ ہوئی اور اپنی خاموشی سے اعتراف شکست کرتے ہوئے اپنے جاہل اور کاذب ہونے پر مہر تصدیق ثبت کر دی۔حضرت اقدس علیہ السلام نے باعلامِ الٰہی اپنی اس تفسیر کے متعلق لکھا کہ اگر ان کے علماء اور حکما ء اور فقہاء اور ان کے باپ اور بیٹے متفق اور ایک دوسرے کے معاون ہو کر اتنی قلیل مدت میں اس تفسیر کی مثل لانا چاہیں تو وہ ہرگز نہیں لا سکیں گے (صفحہ ۵۷ جلد ہذا) اور فرمایا کہ (ترجمہ) ’’مَیں نے اس کتاب کے لئے دُعا کی کہ اﷲ تعالےٰ اسے علماء کے لئے معجزہ بنائے اور کوئی ادیب اس کی نظیر لانے پر قادر نہ ہواور ان کو لکھنے کی توفیق نہ ملے اور میری یہ دُعا قبول ہو گئی اور اﷲ تعالےٰ نے مجھے بشارت دی اور کہا منعہ مانع من السماء کہ آسمان سے ہم اسے روک دیں گے اور مَیں سمجھا کہ اس میں اشارہ ہے کہ دشمن اس کی مثل لانے پر قادر نہیں ہو ں گے۔‘‘ (اعجاز المسیح، روحانی خزائن جلد ۱۸ صفحہ ۶۸،۶۹ ) چنانچہ اس عظیم الشان پیشگوئی کے مطابق نہ پیر گولڑوی کو اور نہ عرب و عجم کے کسی اور ادیب فاضل کو اس کی مثل لکھنے کی جرأت ہوئی۔اسی طرح اس کتاب کے سرورق پر آپ نے بطور تحدی فرمایا کہ یہ ایک لاجواب کتاب ہے۔وَ مَنْ قَامَ لِلْجَوَابِ وَ تَنَمَّرَ۔فَسَوْفَ یَرٰی اَنَّہٗ تَنَدَّمَ وَ تَذَمَّرَ کہ جو شخص بھی غصہ میں آ کر اس کتاب کا جواب لکھنے کے لئے تیار ہو گا وہ نادم ہو گا اور حسرت کے ساتھ اس کا خاتمہ ہو گا۔چنانچہ ایک مولوی محمد حسن فیضی ساکن موضع بھیں تحصیل چکوال ضلع جہلم مدرس مدرسہ نعمانیہ واقع شاہی مسجد لاہور نے عوام میں شائع کیا کہ مَیں اس کا جواب لکھتا ہوں۔ابھی اس نے جواب کے لئے اعجاز المسیح پر نوٹ ہی لکھے تھے اور ایک جگہ لَعْنَۃُ اﷲِ عَلَی الْکَاذِبْیِنَ بھی لکھ دیا تو اس کے بعد ایک ہفتہ بھی نہ گذرا تھا کہ وہ جلد ہلاک ہو گیا۔الغرض اس کتاب کے ذریعہ خدا تعالیٰ کے کئی نشانات ظاہر ہوئے جن کی تفصیل ’’نزول المسیح‘‘ میں درج ہے۔نوٹ:۔اعجاز المسیح کے ایڈیشن اوّل کے آخر میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی طرف سے ۲۰؍ فروری ۱۹۰۱ء کا ایک اشتہار ’’خدا کے فضل سے بڑا معجزہ ظاہر ہوا‘‘ کے عنوان کے تحت اور حضرت پیر سراج الحق صاحب نعمانی کا ایک