اِعجاز المسیح — Page xx
دعاوی کی تکذیب کے متعلق فصیح بلیغ عربی میں سورۃ فاتحہ کی تفسیر لکھیں جو چا۴رجز سے کم نہ ہواور مَیں اسی سورۃ کی تفسیر بفضل اﷲ و قوتہٖ اپنے دعویٰ کے اثبات سے متعلق فصیح بلیغ عربی میں لکھوں گا۔انہیں اجازت ہے کہ وہ اس تفسیر میں تمام دنیا کے علماء سے مدد لے لیں۔عرب کے بلغاء فصحاء بلا لیں۔لاہور اور دیگر بلاد کے عربی دان پروفیسروں کو بھی مدد کے لئے طلب کرلیں۔۱۵؍ دسمبر ۱۹۰۰ء سے ستّر ۷۰دن تک اس کام کے لئے ہم دونوں کو مہلت ہے ایک دن بھی زیادہ نہیں ہو گا۔اگر بالمقابل تفسیر لکھنے کے بعد عرب کے تین نامی ادیب ان کی تفسیر کو جامع لوازمِ بلاغت و فصاحت قرار دیں اور معارف سے پُر خیال کریں تو مَیں پانسو ۵۰۰روپیہ نقد ان کو دوں گا اور تمام اپنی کتابیں جلا دوں گااور ان کے ہاتھ پر بیعت کرلوں گااور اگر قضیہ برعکس نکلا یا اس مدت تک یعنی ستر روز تک وہ کچھ بھی نہ لکھ سکے تو مجھے ایسے لوگوں سے بیعت لینے کی بھی ضرورت نہیں اور نہ روپیہ کی خواہش۔صرف یہی دکھلاؤں گا کہ کیسے انہوں نے پیر کہلا کر قابل شرم جھوٹ بولا۔‘‘ (اربعین نمبر۴، روحانی خزائن جلد ۱۷ حاشیہ صفحہ ۴۴۹،۴۵۰) نیز فرمایا:۔’’ہم ان کو اجازت دیتے ہیں کہ وہ بے شک اپنی مدد کے لئے مولوی محمد حسین بٹالوی اور مولوی عبدالجبار غزنوی اور محمد حسن بھیں وغیرہ کو بُلا لیں بلکہ اختیار رکھتے ہیں کہ کچھ طمع دے کر دوچار عرب کے ادیب بھی طلب کر لیں۔فریقین کی تفسیر چار۴جز سے کم نہیں ہونی چاہئے۔۔۔اور اگر میعاد مجوزہ تک یعنی ۱۵؍ دسمبر ۱۹۰۰ء سے ۲۵؍ فروری ۱۹۰۱ء تک جو ستّر۷۰ دن ہیں فریقین میں سے کوئی فریق تفسیر فاتحہ چھاپ کر شائع نہ کرے اور یہ دن گذر جائیں تو وہ جھوٹا سمجھا جائے گا۔اور اس کے کاذب ہونے کے لئے کسی اور دلیل کی حاجت نہیں رہے گی۔‘‘ (اربعین نمبر ۴، روحانی خزائن جلد ۱۷ صفحہ ۴۸۴) اِس اعلان کے مطابق اﷲ تعالیٰ کے فضل اور اس کی خاص تائید سے حضرت اقدس علیہ السلام نے مدت معیّنہ کے اندر ۲۳؍ فروری ۱۹۰۱ء کو ’’اعجاز المسیح‘‘ کے نام سے فصیح و بلیغ عربی زبان میں سورۃ فاتحہ کی تفسیر شائع کردی۔اور اس تفسیر کے لکھنے کی غرض یہ بیان فرمائی کہ تا پیر مہر علی شاہ صاحب کا