اِعجاز احمدی

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 173 of 566

اِعجاز احمدی — Page 173

روحانی خزائن جلد ۱۹ ۱۷۳ اعجاز احمدی ضمیمه نزول المسیح وَ قَالُوا إِلَى الْمَوْعُوْدِ لَيْسَ بِحَاجَةٍ فَإِنَّ كِتَابَ اللهِ يَهْدِى وَيُخْبِرُ اور انہوں نے کہا کہ مسیح موعود کی طرف کچھ حاجت نہیں کیونکہ اللہ کی کتاب ہدایت دیتی اور خبر دیتی ہے وَمَاهِيَ إِلَّا بِالْغَيُورِ دُعَابَةٌ فَيَاعَجَبًا مِّنْ فِطْرَةٍ تَتَهَوَّرُ اور یہ تو خدائے غیور کے ساتھ ہنسی ٹھٹھا ہے۔ پس ایسی بیباک فطرتوں پر تعجب آتا ہے وَقَدْ جَاءَ قَوْلُ اللَّهِ بِالرُّسُلِ تَوَأَمًا وَمِنْ دُونِهِمْ فَهُمُ الْهُدَى مُتَعَسِّرُ اور اصل حقیقت یہ ہے کہ خدا کا کلام اور رسول یا ہم تو اُم ہیں۔ اور اُن کے بغیر خدا کے کلام کا سمجھنا مشکل ہے فَإِنَّ ظُبَى الأَسْيَافِ تَحْتَاجُ دَائِمًا إِلَى سَاعِدِ يُجْرِى الدِّمَاءَ وَيُنْدِرُ کیونکہ تلواروں کی دھار ہمیشہ ایسے بازو کی محتاج ہے جو خون کو جاری کرتا اور سر کو بدن سے الگ کر دیتا ہے بِعَضُبٍ رَّقِيقِ الشَّفَرَتَيْنِ هَزِيمَةٌ إِذَا نَاشَهُ طِفْلٌ ضَعِيفٌ مُّحَقَّرُ تلوار کو باریک دھار میں رکھتی ہو مگر تب بھی شکست ہوگی جبکہ اس کو کمزور اور حقیر بچہ ہاتھ میں پکڑے گا وَأَمَّا إِذَا أَخُذَ الْكَمِيُّ مُفَقِرًا كَفَى الْعَوْدَ مِنْهُ الْبَدْءُ ضَرْبًا وَّ يَنْحَرُ لیکن جب ایک بہادر آدمی ایک سخت تلوار کو پکڑے تو اس کا پہلا وار دوسرے وار کی حاجت نہیں رکھے گا اور ذبح کر دے گا إِذَا قَلَّ تَقْوَى الْمَرْءِ قَلَّ اقْتِبَاسُهُ مِنَ الْوَحَى كَالسَّلْحَ الَّذِي لَا يُنَوِّرُ جب انسان کی تقوی کم ہو جاتی ہے تو خدا کی کلام سے استنباط اور اقتباس اس کا بھی کم ہو جاتا ہ جیسا کہ مہینہ کی آخری رات میں کچھ روشنی نہیں رہتی فَيَا أَسَفَا أَيْنَ التَّقَاةُ وَاَرْضُهَا وَإِنِّي أَرَى فِسْقًا عَلَى الْفِسْقِ يَظْهَرُ پس افسوس! کہاں ہے تقویٰ اور کہاں ہے زمین اس کی اور میں دیکھتا ہوں کہ فسق پر فسق ظاہر ہورہا ہے أرَى ظُلُمَاتٍ لَيْتَنِي مِتُّ قَبْلَهَا وَذُقْتُ كُنُوسَ الْمَوْتِ اَوْ كُنتُ انْصَرُ اور میں وہ تاریکیاں دیکھتا ہوں کہ کاش میں ان سے پہلے مرجاتا۔ اور موت کے پیالے چکھ لیتا اور یا مد د دیا جاتا أَرَى كُلَّ مَحْجُوبِ لِدُنْيَاهُ بَاكِيًا فَمَنْ ذَا الَّذِي يَبْكِي لِدِينِ يُحَقَّرُ میں ہر ایک محجوب کو دیکھتا ہوں جو اپنی دُنیا کے لئے رو رہا ہے۔ پس کون ہے جو اس دین کے لئے روتا ہے جس کی تحقیر کی جاتی ہے وَلِلدِّينِ اطلالٌ أَرَاهَا كَلَاهِفٍ وَدَمْعِى بِذِكْرِ قُصُورِهِ يَتَحَدَّرُ (٣) اور دین کے لئے شکستہ ریختہ نشان باقی ہیں جن کو میں حسرت کے ساتھ دیکھ رہا ہوں اور اُس کے محلوں کو یاد کر کے میرے آنسو جاری ہیں