اِعجاز احمدی — Page 174
روحانی خزائن جلد ۱۹ ۱۷۴ اعجاز احمدی ضمیمه نزول المسیح تَرَاءَتْ غَوَايَاتٌ كَرِيحٍ مُحِيْحَةٍ وَاَرْحَى سَدِيلَ الْغَيِّ لَيْلٌ مُّكَدَّرُ گراہیاں ایک آندھی کی طرح ظاہر ہوگئیں ایسی آندھی جو درختوں کو جڑ سے اکھاڑتی ہے اور ایک تاریک رات نے گمراہی کے پردے پیچھے چھوڑ دیئے تَهُبُّ رِيَاحٌ عَاصِفَاتٌ كَأَنَّهَا سِبَاعٌ بِاَرْضِ الْهِنْدِ تَعْوِى وَتَزْعَ رُ سخت آندھیاں چل رہی ہیں گویا کہ وہ درندے ہیں ملک ہند میں جو بھیڑیے اور شیر کی آواز نکال رہے ہیں ارَى الْفَاسِقِيْنَ الْمُفْسِدِينَ وَزُمْرَهُمْ وَقَلَّ صَلَاحُ النَّاسِ وَالْغَى يَكْثُرُ میں فاسقوں اور مفسدوں کی جماعتوں کی جماعتیں دیکھ رہا ہوں ۔ اور نیکی کم ہوگئی اور گمراہی بڑھ گئی أرى عَيْنَ دِينِ اللهِ مِنْهُمْ تَكَدَّرَتْ بِهَا الْعِيْنُ وَالآرَامُ تَمْشِي وَتَعْبُرُ دین الہی کے چشمہ کو دیکھتا ہوں کہ مکہ رہو گیا۔ اور اس میں وحشی چار پائے چل رہے اور عبور کر رہے ہیں أرَى الذِيْنَ كَالْمَرْضَى عَلَى الْأَرْضِ رَاغِمًا وَكُلُّ جَهُولٍ فِي الْهَوَى يَتَبَخْتَرُ میں دین کو دیکھتا ہوں کہ زمین پر پڑا ہوا ہے اور ہر ایک جاہل اپنی ہوا و ہوس کے جوش میں ناز کے ساتھ چل رہا ہے وَمَا هَمُّهُمُ إِلَّا لِحَقِّ نُفُوسِهِمْ وَمَا جُهْدُهُمُ إِلَّا لِحَقِّ يُوَفَّرُ اور ان کی ہمتیں اس سے زیادہ نہیں کہ وہ نفسانی حظوظ کے طالب ہیں اور ان کی کوششیں اس سے بڑھ کر نہیں کہ وہ حظ نفسانی کثرت سے چاہتے ہیں نَسُوا نَهْجَ دِينِ اللَّهِ حُبُنًا وَّ غَفْلَةٌ وَقَدْ سَرَّهُم سُكْرٌ وفِسْقٌ وَ مَيْسِرُ انہوں نے دین کی راہ کو محبت اور غفلت کی وجہ سے بھلا دیا اور ان کو مستی اور بدکاری اور قمار بازی پسند آ گئی أرَى فِسْقَهُمْ قَدْ صَارَ مِثْلَ طَبِيعَةٍ وَمَا إِنْ أَرَى عَنْهُمْ شَقَاهُمُ يُقَشَّرُ میں دیکھتا ہوں کہ ان کا فسق طبیعت میں داخل ہو گیا۔ میرے نزدیک اب بظاہر غیر ممکن ہے کہ ان کی شقاوت ان سے الگ کر دی جائے فَلَمَّا طَغَى الْفِسْقُ الْمُبِيدُ بِسَيْلِهِ تَمَنَّيْتُ لَوُكَانَ الْوَبَاءُ الْمُتَبرُ پس جبکہ فسق ہلاک کنندہ ایک طوفان کی حد تک پہنچ گیا تو میں نے آرزو کی کہ ملک میں طاعون پھیلے اور ہلاک کرے فَإِنَّ هَلَاكَ النَّاسِ عِنْدَ أُولِى النَّهَى أَحَبُّ وَأَوْلَى مِنْ ضَلَالٍ يُدَمِّرُ کیونکہ لوگوں کا مرجانا عظمندوں کے نزدیک اس سے بہتر ہے کہ گمراہی کی موت اُن پر آوے