حجة اللہ

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 214 of 494

حجة اللہ — Page 214

روحانی خزائن جلد ۱۲ ۲۱۴ حجة الله وإلى الله ارجعوا، فَإِنَّه لا يُحبّ قومًا فاسقين۔ اور خدا کی طرف رجوع لاؤ کیونکہ وہ فاسقوں کو دوست نہیں رکھتا۔ ومما ادعيتَ يا من أضاع الدين، أنك قلت إنى أناضل في العربيّة كالمرتجلين اور اے دین کے ضائع کرنے والے تیرے دعووں میں سے ایک یہ ہے کہ تو نے کہا ہے کہ میں عربی میں بدیہہ گولوگوں وأستملى كالأدباء الماهرين، وأكون من الغالبين۔ ويُحك يا مسكين، لِمَ تُخزى اسم کی طرح مقابلہ کروں گا اور ماہر ادبیوں کی طرح لکھوں گا۔ اور غالب رہوں گا۔ وائے تجھ پر اے مسکین ۔ تو اپنے دنیا کے نام دنیاک وقد ضاع الدين؟ ألستَ الذى أعرفك من قديم الزمان۔ غبى الفطرة سفيه | کو کیوں رسوا کرنے لگا اور دین تو ضائع ہو چکا۔ کیا تو وہی نہیں جس کو میں قدیم زمانہ سے جانتا ہوں۔ فطرت کا نجی دل کا الجنان، كثير الهذيان قليل العرفان الموصوم بمعرّة لكن اللسان؟ أتصارع بهذه سفیہ بہت بک بک کر نیوالا کم معرفت لکنت لسان کا داغ رکھنے والا کیا تو اس قوت سے دلیر شدید القوت کے ساتھ کشتی القوة الفاتك البازل، وتحارب الـكـمـى الـجـازل؟ كلا بل تريد أن تُرى الناس کرے گا۔ اور سوار کاٹنے والے کے ساتھ جنگ کرے گا۔ ہرگز نہیں بلکہ تو تو اپنا عیب لوگوں کو دکھلانا چاہتا ہے۔ اور اپنی وضمتك، وتشهد على جهلك ابنتك، وإن كنتَ عزمت على مناضلتي، وأردت ژولیدہ زبانی کو اپنی جہالت پر گواہ بنانا چاہتا ہے۔ اور اگر تو نے میرے جنگ کا قصد کر لیا ہے۔ اور ارادہ کر لیا ہے کہ میری أن تذوق حـربـي وحــربتي، فأدعوك كـمـا يُدعى الصيد للاصطياد، أو يُدنَى النار جنگ اور میرے حربہ کا مزہ چکھے۔ پس میں تجھے اس طرح بلاتا ہوں جیسا کہ شکار پکڑنے کیلئے بلایا جاتا ہے۔ یا آگ للإخماد۔ بيد أنّى اشترطتُ من الابتداء أن لا يُعارضنى أحد إلَّا بنيّة | بجھانے کیلئے نزدیک کی جاتی ہے۔ مگر یہ بات ہے کہ میں پہلے سے یہ شرط رکھتا ہوں کہ کوئی شخص بجز نیت ہدایت پانے الاهتداء ، فاسمع منى أنّى أناضلك علـى هـذه الشـريـطة ، ليهـلكـ کے مجھ سے مقابلہ نہ کرے۔ پس مجھ سے سن کہ میں اسی شرط کے ساتھ تجھ سے مقابلہ کروں گا تاکہ جو بینہ