حجة اللہ

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 185 of 494

حجة اللہ — Page 185

روحانی خزائن جلد ۱۲ ۱۸۵ حجة الله وتـلـعـنــون أزواج رسول الله أمهات المؤمنين، وتحسبون كتاب الله (۳۷) اور نیز تم آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی بیویوں امہات المومنین کو لعنت سے یاد کرتے ہو اور گمان کرتے ہو کہ خدا کی كلاما زيدَ عليه ونقص، وتقولون إنه بياض عثمان وأنه ليس من ربّ العالمين۔ کتاب میں کچھ زیادہ اور کم کیا گیا ہے اور کہتے ہو کہ وہ بیاض عثمان ہے۔ اور خدا کی طرف سے نہیں ہے فلعنكم الله بفسقكم وصرتم قومًا عمين ۔ وحسبتم الإسـلام كـواد غير ذي زرع | پس خدا نے باعث فسق تمہارے کے تم پر لعنت کی اور تم اندھے ہو گئے اور تم نے اسلام کو ایسا کجھ لیا جیسا کہ ایک بیابان جس کی زمین خشک خاليا من رجال الله المقربين ۔ فأى عرض بـقـى مـن أيـديـكـم يا معشر المسرفين؟ اور زراعت سے خالی ہے یعنی خدا کے مقربوں سے خالی ہے۔ پس کون سی عزت تمہارے ہاتھوں سے باقی رہی اے حد سے نکلنے والو!؟ وأريتُـم تـصـويـر عـلـى كـأنـه أجبن الناس، وأطوع للخنّاس ۔ اعتلق بأهداب الكافرين اور تم نے علی کی تصویر ایسی ظاہر کی کہ گویا وہ سب سے زیادہ نامرد ہے اور نعوذ باللہ شیطان کا تابع ہے۔ کافروں کے دامن کو اس نے اعتلاق الحرباء بالأعواد، وآثر نار النفاق ليفيض عليه عُباب المراد أخزى نفسه بتنافى ایسا پکڑا اور ایسا ان سے آویزاں ہوا جیسا کہ آفتاب پرست شاخوں کے ساتھ اور نفاق کی آگ اس نے اختیار کی تا اس پر مراد کا بہت سا پانی قوله وفعله، ورضى بشيء لم يكن من أهله وحمد الكافرين في المحافل، وأثنى عليهم ڈالا جائے ۔ اپنے قول وفعل کے تناقض سے اپنے نئیں رسوا کیا اور اس چیز سے راضی ہو گیا جس کا وہ اہل نہیں تھا۔ اور کافروں کی اس نے محفل في المجامع والقوافل، وحضر جنابهم وما ترك الطمع، حتى انزوى التأميل وانقمع، میں تعریف کی اور مجمعوں اور قافلوں میں ان کی ثنا خوانی کی اور انکی جناب میں حاضر ہوا اورطمع کو نہ چھوڑا ایہاں تک کہ امید کم ہوگئی اور اس فما آووالمفـاقـره، وما فرحوا بمحامد أُترعتُ في فقره، بل اغتصبوا حديقة فَدَكِه، کا قلع قمع ہو گیا پس انہوں نے اسکی قسم قسم کی تہی دست پر رحم نہ کیا اوران تعریفوں کے ساتھ خوش نہ ہوئے جو اسکی کلام کے فقروں میں بھری ہوئی وقاموا لفتـكـه ومــا أبـرزواله دينارًا، ليُطعِـم بـطـنـا أمـارًا، ومـا كـانـوا تھیں بلکہ انہوں نے اس کا باغ فدک چھین لیا اور اسکے قتل کرنے کیلئے کھڑے ہو گئے اور اس کو ایک مہر نہ دی تا اپنے شکم حکمران کو طعام دیتا