حجة اللہ

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 182 of 494

حجة اللہ — Page 182

روحانی خزائن جلد ۱۲ ۱۸۲ حجة الله (۳۴) في أرجاء آخرين، وكان أُعطِي منطق البلاغة، وكان يُزيّن الكلم ويلونها كالدباغة، فما کناروں میں نہ ڈال دیا اور اس کو بلاغت زبان دی گئی تھی اور کلمات کو خوب زینت دیتا تھا اور رنگین کرتا تھا جیسا کہ چمڑہ کی نزل عليه لَم يستعمل في استمالة الناس صناعته، وما أرى في الإصباء براعته، بل تمائل دباغت کی جاتی ہے۔ پس اس پر یہ بلا کیا نازل ہوئی کہ اس نے لوگوں کو اپنی طرف کھینچنے میں بلاغت اور فصاحت سے کام نہ لیا اور الله ؟ كلا كل التمائل على النفاق والتقيّة، وحسبه للعدا كالرقية؟ أهذا فعلُ أسدا دلوں کو اپنی طرف پھیرنے میں اپنے حسن بیان کو نہ دکھلایا بلکہ نفاق اور تقیہ کی طرف جھک گیا اور نفاق کو دشمنوں کیلئے مثل بل هو افتراؤكم يا معشر الكذابين - إنه كان حاز من الفضائل مغنمًا، وكان بقوى الإيمان افسوں کے سمجھا کیا یہ فضل شیر خدا کا ہے ہرگز نہیں بلکہ یہ تو الے کا ذبوں کے گروہ تمہارا افترا ہے۔ علی تو جامع فضائل تھا اور ایمانی قوتوں تَوُأما ، فما اختار نفاقًا أينما انبعث، وما نافق فى كل ما فعل ونفث، وما كان من المرائين۔ کے ساتھ تو ام تھا۔ پس اس نے کسی جگہ نفاق کو اختیار نہیں کیا اور اپنے قول اور فعل میں کبھی منافقانہ طریق نہیں برتا اور ریا کاروں فلما نضنضتم في شأنه نضنضة الصلّ، وحملقتم إليه حملقة البازى المطلّ، مع دعاوى | میں سے نہ تھا۔ پس جبکہ تم اس کی شان میں ایسی زبان ہلاتے ہو جیسا کہ سانپ اور ایسا اس کی طرف دیکھتے ہو جیسا کہ باز جو الحب والمصافاة، فكيف تقصرون في غيره مع جذبات المعاداة؟ شکار پر گرتا ہے اور یہ سب کچھ باوجود اس محبت کے ہے جس کا تمہیں دعویٰ ہے تو پھر کیونکر تم اس کے غیر میں کچھ کوتاہی کر سکتے وكذلك استحـقـرتـم خـاتـم الأنبياء ، وقلتـم دفن معه الكافران من الأشقياء ، يمينا ہو کیونکہ وہاں تو دشمنی کے جذبات بھی ہیں۔ اور اس طرح تم نے خاتم الانبیاء صلی الہ علیہ وسلم کی حقیر ی اور کہا کہ اس کے ساتھ دو کا فردائیں وشمالا كالإخوان والأبناء۔ فانظروا إلى توهينكم يا معشر المجترئين۔ ونحن نستفسر | بائیں بھائیوں اور بیٹوں کی طرح دفن کئے گئے ۔ سو تم اے گروہ بے باکان اس تو ہین کی طرف جو تم کر رہے ہو نظر کرو اور منك أيها النجفي ،الضال، فأجب متحملا ولا يكبر عليك السؤال۔ أترضى ہم تجھ سے اے نجفی گمراہ ایک بات پوچھتے ہیں۔ سو ٹھہر کر جواب دے اور تیرے پر سوال بھاری نہ ہو ۔ کیا تو اس بات پر