حجة اللہ

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 181 of 494

حجة اللہ — Page 181

۱۸۱ روحانی خزائن جلد ۱۲ حجة الله واشتدّ عَلَيْه غصبهم ونهبهم حتى صفرت الراحة، وفقدت الراحة، فما ترك لقياهم، وما ٣٣ اور انہوں نے غارتگری سے اس کو تباہ کیا یہاں تک کہ ہتھیلی خالی ہوگئی اور آرام جاتا رہا مگر اس نے ان کا ملنا كره رياهم، بل كان يستمـر عـلـى بـابهـم، ويستمرى فُضْلة أنيابهم، وما باعدهم | نہ چھوڑا اور ان کی خوشبو سے بیزار نہ ہوا بلکہ لازمی طور پر حاضر ہوتا رہا اور ان کے دانتوں کے فضلہ کو ہضم کرتا كالمُستنكفين، بل كان يُخْلِقُ لهم ديباجته، ويُعرض عليهم حاجته، ويدور على أبوابهم رہا اور عار رکھنے والوں کی طرح ان سے علیحدہ نہ ہوا بلکہ ان کی خدمت میں اپنی آبرو کو بٹہ لگا تا تھا اور اپنی كالسائلين الملحفين وكان عليه أن يترك المدينة وأهلها الكافرين المرتدّين، ولو حاجت ان کے پاس پیش کرتا تھا اور ان کے دروازوں پر سوالیوں کی طرح پھرتا تھا اور اس کو چاہیے تھا کہ مدینہ کو اور كانوا من المترفين والمخصبين، بل كان من الواجب أن يقتعد مَهْرِيّا، ويعتقل سَمُهَرِيّا ، اس کے باشندوں کو جو کافر اور مرتد تھے چھوڑ دیتا اور اگر چہ وہ لوگ خوشحال ہوتے بلکہ واجب تو یہ تھا کہ ایک ويُهاجر من أرض إلى أرض، ويطلب رفعًا مِن خفض، ويُنادى بين الناس أن الصحابة | مضبوط اونٹ پر سوار ہو جاتا اور نیزہ لٹکا لیتا اور ایک زمین سے دوسری زمین میں چلا جاتا اور پستی کے بعد ارتدوا كلهم أجمعون، ثم إذا أحسّ الإيمان من قوم فكان عليه أن يُلقى بأرضهم جرانه، بلندی طلب کرتا اور لوگوں میں بلند آواز سے کہتا کہ صحابہ سب مرتد ہو گئے ۔ پھر جب کسی قوم میں ایمان کو پاتا ويـتـخــذهــم جـيـرانــه، ويجعلهم لنفسه معاونين، ويقتل أهل المدينة كلهم إن لم يكونوا | پس مناسب تھا کہ اس زمین میں بود و باش کرتا اور ان کو اپنا ہمسایہ اور معاون بناتا اور تمام مدینہ کے لوگوں کو مسلمين ۔ فكيف تمضمضت مقلته بنومها، وكان يرى الملة قد اكفهر قتل کر ڈالتا اگر وہ مسلمان نہیں تھے ۔ پس کیونکر اس کو نیند پڑی اور وہ دیکھتا تھا کہ جو اسلام کا دن تھا اس کا چہرہ تاریک وجه يومها، وأمـحـلـت بلاد الإيمان والـمـؤمـنـيـن ۔ لم لم يُهاجر ولم يلق نفسه ہو گیا اور ایمان اور مومنوں کے بلاد پر خشک سالی غالب آگئی ۔ کیوں ہجرت نہ کی اور کیوں اپنے نفس کو دوسروں کے