حقیقة المہدی

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 430 of 550

حقیقة المہدی — Page 430

روحانی خزائن جلد ۱۴ ۴۳۰ حقيقت المهدى طوب کنی کرتے ہیں جس کا خلاصہ یہ ہے کہ " مہدی ظاہر نہیں ہیں۔ میرے نزدیک ان پر تین قسم کا جرح ہوتے ہی اس قدر عیسائیوں کو قتل کرے گا کہ جو ہوتا ہے یا یوں کہو کہ وہ تین قسم سے باہر نہیں۔ ان میں سے باقی رہ جائیں گے ان کو حکومت (1) اول وہ حدیثیں کہ موضوع اور غیر صحیح اور غلط اور بادشاہت کا حوصلہ نہیں رہے گا اور ریاست ہیں اور ان کے راوی خیانت اور کذب سے منہم کی کو ان کے دماغ میں سے نکل جائے گی اور ذلیل ہو کر بھاگ جائیں گے پھر اسی ہیں اور کوئی دیندار مسلمان ان پر اعتماد نہیں کر سکتا۔ حجج الکرامہ کے صفحریم ۳۷ سطر ۸ میں لکھتا ہے (۲) دوسری وہ حدیثیں ہیں جو ضعیف اور مجروح کہ اس فتح کے بعد مہدی ہندوستان پر چڑھائی ہیں اور باہم تناقض اور اختلاف کی وجہ سے کرے گا اور ہندوستان کو فتح کرلے گا اور پائی اعتبار سے ساقط ہیں اور حدیث کے نامی اماموں ہندوستان کے بادشاہ کو گردن میں طوق ڈال کر نے یا تو ان کا قطعاً ذکر ہی نہیں کیا اور یا جرح اور اس کے سامنے حاضر کیا جائے گا اور تمام خزانے بے انتہاری کے لفظ کے ساتھ ذکر کیا ہے اور توثیق اور بنک گورنمنٹ کے لوٹ لیں گئے اور پھر اسی | روات نہیں کی یعنی راویوں کے صدق اور دیانت کی زیادہ تشریح کتاب اقتراب الساعه کے وب صفحہ ۶۴ میں اس طرح پر کی ہے جو صفحہ مذکور یعنی پر شہادت نہیں دی۔ (۳) تیسری وہ حدیثیں ہیں جو صفحہ ۶۴ کی تیرھویں سطر سے اٹھارویں سطر تک یہ در حقیقت صحیح تو ہیں اور طرق متعددہ سے ان کی صحت عبارت ہے۔ ”ہندوستان کے بادشاہوں کو کاپتہ ملتا ہے لیکن یا تو وہ کسی پہلے زمانہ میں پوری گردن میں طوق ڈال کر ان کے یعنی مہدی کے ہو چکی ہیں اور مدت ہوئی کہ ان لڑائیوں کا خاتمہ سامنے لائیں گے ان کے خزائن بیت المقدس ہو چکا ہے اور اب کوئی حالت منتظرہ باقی نہیں اور یا کا زیور کئے جاویں گے ۔ (پھر اس کے بعد اپنی رائے بیان کرتا ہے اور اس رائے کی تائید میں اس کے اپنے منہ کے لفظ یہ ہیں ۔ میں کہتا ہوں ہند میں اب تو کوئی بادشاہ بھی نہیں ہے یہی یعنی ہدایت یافتہ انسان کے آنے کی خوشخبری دی گئی چند رئیس جنود یا مسلمان ہیں سو وہ کچھ حاکم مستقل ہے اور اشارات سے بلکہ صاف لفظوں میں بھی بیان نہیں ہیں بلکہ برائے نام ہیں اس ولایت کے کیا گیا ہے کہ اس کی ظاہری بادشاہت اور خلافت بادشاہ یورپین ہیں غالبا اس وقت تک یعنی نہیں ہوگی اور نہ وہ لڑے گا اور نہ خون ریزی یہ بات ہے کہ ان میں ظاہری خلافت اور ظاہری لڑائیوں کا کچھ بھی ذکر نہیں صرف ایک مہدی