حقیقة المہدی — Page 430
روحانی خزائن جلد ۱۴ ۴۳۰ حقيقت المهدى کرتے ہیں جس کا خلاصہ یہ ہے کہ مہدی ظاہر نہیں ہیں۔ میرے نزدیک ان پر تین قسم کا جرح ہوتے ہی اس قدر عیسائیوں کو قتل کرے گا کہ جو ہوتا ہے یا یوں کہو کہ وہ تین قسم سے باہر نہیں۔ ان میں سے باقی رہ جائیں گے ان کو حکومت (۱) اول وہ حدیثیں کہ موضوع اور غیر صحیح اور غلط اور بادشاہت کا حوصلہ نہیں رہے گا اور ریاست ہیں اور ان کے راوی خیانت اور کذب سے متهم کی یو ان کے دماغ میں سے نکل جائے گی اور ذلیل ہو کر بھاگ جائیں گے پھر اسی ہیں اور کوئی دیندار مسلمان ان پر اعتماد نہیں کر سکتا۔ حجج الکرامہ کے صفحہ ۳۷۴ سطر ۸ میں لکھتا ہے (۲) دوسری وہ حدیثیں ہیں جو ضعیف اور مجروح کہ اس فتح کے بعد مہدی ہندوستان پر چڑھائی ہیں اور باہم تناقض اور اختلاف کی وجہ سے کرے گا اور ہندوستان کو فتح کرلے گا اور پایہ اعتبار سے ساقط ہیں اور حدیث کے نامی اماموں ہندوستان کے بادشاہ کو گردن میں طوق ڈال کر نے یا تو ان کا قطعاً ذکر ہی نہیں کیا اور یا جرح اور اس کے سامنے حاضر کیا جائے گا اور تمام خزانے بے اعتباری کے لفظ کے ساتھ ذکر کیا ہے اور توثیق اور بنک گورنمنٹ کے لوٹ لیں گے اور پھر اسی ب کی زیادہ تشریح کتاب اقتراب الساعہ کے روات نہیں کی یعنی راویوں کے صدق اور دیانت ب صفحہ ۶۴ میں اس طرح پر کی ہے جو صفحہ مذکور یعنی پر شہادت نہیں دی۔ (۳) تیسری وہ حدیثیں ہیں جو صفحہ ۶۴ کی تیرھویں سطر سے اٹھارویں سطر تک یہ در حقیقت صحیح تو ہیں اور طرق متعددہ سے ان کی صحت عبارت ہے۔ ”ہندوستان کے بادشاہوں کو کا پتہ ملتا ہے لیکن یا تو وہ کسی پہلے زمانہ میں پوری گردن میں طوق ڈال کر ان کے یعنی مہدی کے ہو چکی ہیں اور مدت ہوئی کہ ان لڑائیوں کا خاتمہ سامنے لائیں گے ان کے خزائن بیت المقدس ہو چکا ہے اور اب کوئی حالت منتظرہ باقی نہیں اور یا کا زیور کئے جاویں گے ۔ (پھر اس کے بعد اپنی رائے بیان کرتا ہے اور اس رائے کی تائید میں اس کے اپنے منہ کے لفظ یہ ہیں ۔ ” میں کہتا ہوں یہ بات ہے کہ ان میں ظاہری خلافت اور ظاہری لڑائیوں کا کچھ بھی ذکر نہیں صرف ایک مہدی یعنی ہدایت یافتہ انسان کے آنے کی خوشخبری دی گئی ہند میں اب تو کوئی بادشاہ بھی نہیں ہے یہی چند رئیس ہنود یا مسلمان ہیں سو وہ کچھ حاکم منتقل ہے اور اشارات سے بلکہ صاف لفظوں میں بھی بیان نہیں ہیں بلکہ برائے نام ہیں اس ولایت کے کیا گیا ہے کہ اس کی ظاہری بادشاہت اور خلافت بادشاہ یورپین ہیں غالباً اس وقت تک یعنی نہیں ہوگی اور نہ وہ لڑے گا اور نہ خون ریزی