حقیقةُ الوحی — Page 606
روحانی خزائن جلد ۲۲ تتمه مجھے عاجز پر اور یا قاضی صاحب پر نازل ہونا چاہیے مثلاً موت یا طاعون یا کسی مقدمہ میں ماخوذ ہو جانا یہی شرط ہے اور کسی قرایتی اور اپنے کسی متعلق پر کوئی عذاب نازل ہونا یا اُس کا مرجانا شرط میں داخل نہ ہوگا اور وہ عذاب صرف ہم دونوں سے مخصوص سمجھا جائے گا۔ خاکسار عاجز مہتاب علی سیاح جالندھری مورخه ۱۲ جون ۱۹۰۶ء ان بالمقابل تحریروں کے بعد جیسا کہ ہم لکھ چکے ہیں نتیجہ یہ ہوا کہ قاضی فیض اللہ خاں مرض طاعون کے ساتھ جیسا کہ جھوٹے کے لئے بددعا کی گئی تھی اور نیز سال کے اندر جیسا کہ شرط تھی بمقام جموں ہلاک ہو گیا اور بموجب آیت کریمہ وَمَا كَانَ لِنَفْسٍ أَنْ تَمُوْتَ إِلَّا باذن اللہ کے مہتاب علی کو خدا نے طاعون سے بچا لیا کیونکہ وہ اپنے دعوے میں صادق تھا۔ اور فیض اللہ خان طاعون کا شکار ہو گیا کیونکہ وہ اپنے دعوے میں کا ذب تھا۔ ☆ نکته قابل یادداشت : اللہ تعالیٰ قرآن شریف میں فرماتا ہے فَلَا يُظْهِرُ عَلَى غَيْبِةٍ أَحَدًا إِلَّا مَنِ از نطی مِنْ رَّسُولٍ کے اس آیت سے قطعی اور یقینی طور پر یہ سمجھا جاتا ہے کہ کھلی کھلی پیشنگوئیاں جو مقدار میں زیادہ اور صفائی میں اول درجہ پر ہوں صرف خدا کے برگزیدوں کو ہوتی ہیں دوسرے آدمی ان میں شریک نہیں ہوتے اور جو اس درجہ پر الہام نہیں وہ دوسروں کو بھی ہو سکتے ہیں اور اکثر اُن میں مہمل اور متشابہ الہام ہوتے ہیں ۔ پس اسی مقابلہ سے برگزیدے لوگ شناخت کئے جاتے ہیں۔ یاد رہے کہ اس آیت کی رو سے اس بات کا جواز پایا جاتا ہے کہ وہ الہامی پیشگوئیاں جو اس آیت کے منشاء کے مطابق کھلی کھلی نہ ہوں اور نیز اپنے مقدار میں انسانوں کی معمولی حالت سے بڑھ کر نہ ہوں اور متشابہات کا حصہ اُن پر غالب ہو۔ ایسی الہامی پیشگوئیاں اور ایسے الہام اُن لوگوں کو بھی ہو سکتے ہیں جو خدا کے برگزیدہ نہیں ہیں اور معمولی انسانوں میں سے ہیں ۔ پس برگزیدوں کی شناخت کے لئے قرآن شریف میں یہی معیار ہے کہ ان کی الہامی پیشگوئیوں میں متشابہات کا حصہ کم ہو اور اپنی کثرت اور صفائی میں اس درجہ پر ہوں کہ دنیا میں کوئی ان کا مقابلہ نہ کر سکے ورنہ اس آیت کی رو سے ایک فاسق کو بھی الہام ہو سکتا ہے جو اس درجہ پر نہیں ہے مثلاً نظیر کے طور پر ہم بیان کرتے ہیں کہ براہین احمدیہ کی یہ پیشگوئی کہ یا تیك من كل فج عميق۔ يأتون من كل فج عمیق جس پر چھبیس برس گزر چکے ہیں ایسے کھلے کھلے طور پر پوری ہوئی ہے کہ نہ ایک دفعہ بلکہ لاکھوں دفعہ اُس نے اپنی سچائی ثابت کر دی ہے جس میں تائید اور نصرت الہی بھری ہوئی ہے۔ پس ایسی پیشگوئی بجز خدا کے کسی خاص برگزیدہ کے دوسروں سے ہرگز ظہور میں نہیں آسکتی۔ اگر آسکتی ہے تو کوئی اس کی نظیر پیش کرے۔ منہ ال عمران : ۱۴۶ ۲ الجن : ۲۸،۲۷