حقیقةُ الوحی — Page 605
روحانی خزائن جلد ۲۲ تتمه ہو چکے ہیں وحی کا نازل ہونا خلاف مذہب قرآن و حدیث ہے۔اور مرزا صاحب کے اس دعوے کی تردید کرتا ہوں کہ وہ مثیل وسیح موعود ہیں اور منشی مہتاب علی صاحب خلف الرشید منشی کریم بخش صاحب سکنہ شہر جالندھر جو کہ مرزا صاحب موصوف کے تابع ہیں دعوی کرتے ہیں کہ جو شخص اُن کے اس دعوی کی تردید کرے اُس پر عذاب الہی نازل ہوگا۔ لہذا میں یہ دعا کرتا ہوں کہ ہم دونوں فریقوں میں سے جو شخص جھوٹا ہے اُس پر عذاب الہی نازل ہوشل موت یا بیماری طاعون یا مقدمه میں گرفتاری اور میں بمطابقت سنت نبوی کے ایک سال کی میعاد ٹھہراتا ہوں اور یہ شرط کرتا ہوں کہ اگر یہ عذاب میرے یا منشی مہتاب علی کے بغیر کسی اور شخص قرابتی پر ہوتو یہ شرط میں داخل نہ ہوگا۔ واخر دعوانا ان الـحـمـد لله ربّ العالمين وصلى الله تعالى على خير محمد واله و اصحابه اجمعین برحمتک یا ارحم الراحمين۔ قاضی فیض اللہ خاں سکنہ جنڈیالہ با غوالہ ضلع گوجرانوالہ مورخہ ۱۲ جون ۱۹۰۶ ء خلقه بسم اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ نَحمدهُ وَ نُصَلَّى تحریر تخطی منشی مهتاب علی میں حضرت اقدس حضرت مرزا غلام احمد کو سچا مسیح سمجھتا ہوں اور اُن کا ہر ایک دعوی جو دین کے متعلق ہے بلا کسی شک وشبہ کے صحیح مانتا ہوں مگر میرے مقابلہ پر قاضی فیض اللہ خلف الرشید قاضی ظفر الدین مرحوم یقین کے ساتھ کہتا ہے کہ مرزا صاحب جھوٹا اور اُن کا دعویٰ بالکل گھڑا ہوا اور خود تراشیدہ ہے اس لئے میں قاضی صاحب کے مقابلہ میں مباہلہ کرتا ہوں اور پورا پورا اور کامل یقین مجھے ہے کہ جو ہر دو میں سے جھوٹا ہوگا اللہ تعالیٰ اُس پر عذاب الیم نازل کرے گا۔ زمین آسمان ٹل جائیں گے لیکن یہ عذاب یقیناً نہیں ملے گا اور وہ اپنی چمکار دکھا کر رہے گا کیونکہ اللہ تعالیٰ کا ہمیشہ سے یہ قانون جاری ہے اور آخری و بہتر اور اولی طریق کذب اور راستی میں تفریق کرنے کا ہے۔ پس خدا سے میری دعا ہے کہ وہ جلد تر نتیجہ پیدا کرے۔ اے خدا اے خدا تجھے سے کوئی انہونی بات نہیں۔ اگر تو چاہے تو ایک آن میں عذاب نازل کر سکتا ہے لیکن میں سنت نبوی کے مطابق ایک سال کی میعاد تجویز کرتا ہوں اور وہ عذاب محض