حقیقةُ الوحی — Page 566
روحانی خزائن جلد ۲۲ ۵۶۶ تتمه ہزار نکته باریک تر ز مو این جاست نہ ہر کہ سر بتراشد قلندری داند پھر با بوالہی بخش صاحب اپنی کتاب عصائے موسیٰ کے صفحہ 49 میں فرماتے ہیں خاکسار کو عجز بشریت سے یہ خیال آیا کہ شاید مرزا صاحب کی ناراضگی سے کچھ نقصان ہو۔ اس پر الہام ذیل میں حفاظت و سلامتی کی تسلی فرمائی گئی واللہ خـيـر حـافـظـا وهو ارحم الراحمين فسلام لک یعنی تیرا خدا حافظ ہوگا اور تجھے سلامتی رہے گی کوئی قہر الہی تجھ پر نازل نہیں ہوگا یہ ہے الہام بابو صاحب کا جس نے اُن کو تسلی دی کہ فریق مخالف یعنی اس عاجز مظلوم کی بد دعا سے اُن کا کوئی نقصان نہیں ہوگا وہ سلامت رہیں گے۔معلوم ہوتا ہے کہ اسی الہام نے اُن کو بد زبانی اور گالیاں دینے میں چالاک کر دیا۔ پھر اس کے بعد اُن کی بد زبانی ایسی بڑھ گئی جیسے کسی دریا کا پل ٹوٹ کر ارد گرد کی بستیوں کو تباہ کر دیتا ہے۔ افسوس کہ صد ہانشان اُن کی زندگی میں پورے ہوئے مگر کسی نشان سے اُنہوں نے فائدہ نہ اٹھایا اور ہر ایک نشان کے دیکھنے کے بعد یا کسی سے اُس کا حال سننے کے بعد یہی بار بار اُن کا جواب تھا کہ آتھم میعاد کے اندر نہیں مرا۔ احمد بیگ کا داما داب تک زندہ ہے حالانکہ الہام تھا کہ احمد بیگ کی لڑکی کا نکاح آسمان پر پڑھا گیا ہے اور اُن کی رہنمائی کے لئے بار بار ۱۳۰ کتابوں میں لکھا گیا کہ ڈپٹی آتھم تو بہر حال فوت ہو چکا ہے میعاد کے اندر مرا یا میعاد کے با ہر مرا آخر مر تو گیا اور یہ پیشگوئی شرطی تھی یعنی مرنا اس کا اس شرط سے تھا کہ جب حق کی طرف وہ رجوع نہ کرے لیکن آتھم نے جلسہ مباحثہ میں ہی اپنار جوع ظاہر کر دیا جب اُس کو کہا گیا کہ یہ پیشگوئی اس لئے کی گئی ہے کہ تم نے اپنی کتاب اندرونہ بائبل میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا نام دجال رکھا ہے تب اُس نے ساتھ یا ستر آدمیوں کے رو بروجن میں نصف افسوس ان کا کوئی دوست بھی اس بات کو نہیں سوچتا کہ جبکہ خدا تعالیٰ کا وعدہ تھا کہ وہ ان کی حفاظت کرے گا۔ اور میرا ناراض ہونا اُن کو کچھ نقصان نہیں پہنچائے گا تو پھر یہ کیا بات ہوئی کہ طاعون نے بابو صاحب کو آ پکڑا۔ کہاں گئی وہ حفاظت جس کا وعدہ تھا۔ منہ