حقیقةُ الوحی

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 567 of 830

حقیقةُ الوحی — Page 567

روحانی خزائن جلد ۲۲ ۵۶۷ تتمه کے قریب عیسائی تھے نہایت خوف اور انکسار کی حالت بنا کر زبان منہ سے نکالی اور دونوں ہاتھ کانوں پر رکھے اور بیان کیا کہ میں نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو ہرگز دجال نہیں کہا اور پھر معتبر ذرائع سے ۱۵ معلوم ہوا ہے کہ وہ پندرہ مہینہ تک روتا رہا اور خدا تعالیٰ نے بھی مجھے اپنے الہام کے ذریعہ سے خبر دی کہ اس پیشگوئی کے ذریعہ سے اُس کو سخت صدمہ پہنچا اور وہ دیوانہ کی طرح ہو گیا ہے اور اُس کے دل میں عظمت اسلام بیٹھ گئی اور اُس نے شوخی اور بد زبانی قطعاً چھوڑ دی اور با وجود ان سب باتوں کے عیسائی مذہب پر قائم رہنے کے ثبوت کے لئے اُس نے قسم نہیں کھائی حالانکہ اس قسم پر چار ہزار روپیہ نقد اُس کو ملتا تھا اور عیسائی مذہب میں قسم کھانا نہ صرف جائز بلکہ بعض صورتوں میں فرض لکھا ہے اور اس امر کو چھپانا محض بے ایمانی اور شرارت ہے حضرت عیسی نے خود قسم کھائی۔ پولوس نے قسم کھائی۔ پطرس نے قسم کھائی۔ پس یہ تمام دلائل آتھم کے رجوع پر ہیں اور ایک منصف کے لئے کافی ہیں اور اگر اُس کے رجوع پر کوئی دلیل بھی نہ ہوتی تب بھی میرے لئے یہ کافی تھا کہ خدا نے اُس کے رجوع کی مجھے خبر دی اور با ایں ہمہ وہ میرے آخری اشتہار سے چھ ماہ گذرنے کے بعد مر گیا۔ پس جبکہ پیشگوئی شرطی تھی اور شرط کے آثار ظاہر ہو گئے تھے تو پھر کسی خدا ترس آدمی کا کام نہیں ہے کہ حیا اور شرم کو ترک کر کے پھر بھی اعتراض سے باز نہ آوے حالانکہ یہ مسئلہ مسلم ہے کہ وعید یعنی عذاب کی پیشگوئیوں میں کسی شرط کی بھی ضرورت نہیں وہ مل سکتی ہیں کیونکہ وہ مجرم کے لئے ایک عذاب دینے کا وعدہ ہے اور خدا حقیقی بادشاہ ہے وہ کسی کی تو بہ اور استغفار سے اپنے عذاب کو معاف کر سکتا ہے جیسا کہ یونس نبی کی قوم کو معاف کر دیا اسی پر تمام نبیوں کا اتفاق ہے جیسا کہ اللہ تعالیٰ آپ فرماتا ہے اِنْ يَّكَ كَاذِبًا فَعَلَيْهِ كَذِبُهُ وَإِنْ يَّكَ صَادِقًا يُصِبْكُمْ بَعْضُ الَّذِي يَعِدُكُمْ کے یعنی اگر یہ بی جھوٹا ہے تو جھوٹ بولنے کا عذاب اس پر نازل ہوگا اور اگر سچا ہے تو بعض عذاب جن کا وہ وعدہ دیتا ہے تم پر وارد ہو جائیں گے۔ اب دیکھو خدا نے بعض کا لفظ اس جگہ استعمال کیا نہ کل کا جس کے یہ معنی ہیں کہ جس قدر عذاب کی اس نبی نے پیشگوئیاں کی ہیں اُن میں سے بعض تو ضرور پوری ہو جائیں گی گو بعض معرض التوا میں رہ جائیں گی ۔ پس ل المؤمن : ٢٩