حقیقةُ الوحی — Page 551
روحانی خزائن جلد ۲۲ ۵۵۱ تتمه بعد فوت ہو گئے ۔ اب منصفین خود سمجھ سکتے ہیں کہ کیا طول حیات اور طول بقا کے یہی معنی ہیں کہ ۱۱۵ صرف چھ برس میں قبل اس کے کہ وہ اپنی کسی کا میابی کو دیکھیں مرض طاعون سے اُن کا خاتمہ ہو جائے اور بڑی حسرت کے ساتھ میری زندگی میں ہی نا مراد مریں۔ ہم اس وقت اُن کے بارے میں محض اُن کے دوستوں کی رائے پوچھتے ہیں اور ہم بادب عرض کرتے ہیں کہ کیا یہ صحیح ہے کہ جیسا کہ انہوں نے اپنے الہام کی رو سے یہ دعویٰ کیا تھا کہ جو خدمت مجھ کو سپرد ہوئی ہے جب تک پوری نہ ہو میں ہرگز نہ مروں گا۔ کیا وہ خدمت پوری ہوگئی ہے؟ کیا ان کی کوششوں اور ان کی تہمتوں سے جو تمام کتاب عصائے موسیٰ میں میرے پر لگائی گئیں میرا ایک بال بھی مہنگا ہو گیا ہے؟ اور ناظرین اس کی بھی ہمیں اجازت دیں کہ وہ الہام جو میری نسبت با بوالہی بخش صاحب نے کیا تھا کہ سنسمه علی الخرطوم کیا یہ سچ نہیں کہ وہ اُلٹ کر انہیں پر پڑ گیا اور قدرت کے ہاتھ نے ایسے طور پر اُن کی خرطوم پر طاعونی آگ کا داغ لگایا کہ اُن کا خاتمہ ہی کر دیا اور مار میت کا تکبر ޏ تیر جواُنہوں نے میری طرف بقول اپنے الہام کے چلایا تھا آخر وہ انہیں کو لگ گیا الہی بخش کے کیسے تھے یہ تیر کہ آخر ہو گیا اُن کا وہ نخجیر اُسی پر اُس کی لعنت کی پڑی مار کوئی ہم کو تو سمجھاوے یہ اسرار نہیں ملتا وہ دلدار ملے جو خاک سے اُس کو ملے یار کوئی اس پاک سے جو دل لگاوے کرے پاک آپ کو تب اُس کو پاوے پسند آتی ہے اُس کو خاکساری تذلل ہی رہ درگاه باری عجب ناداں ہے وہ مغرور و گمراہ کہ اپنے نفس کو چھوڑا ہے بے راہ بدی پر غیر کی ہر دم نظر ہے مگر اپنی بدی سے بے خبر ہے اور پھر کتاب عصائے موسیٰ کے صفحہ ۱۵۲ میں بابو الہی بخش صاحب میری نسبت یہ الہام شائع کرتے ہیں فیمت و هو كافر۔ رُدّت اليه لعانه۔ وأزلفت الجنة للمتقين ۔ یہ ہفتم رمضان ۱۳۱۷ھ کا واقعہ ہے ( ترجمہ ) یہ شخص کا فرمرے گا اور اس کا میرے ساتھ باہم لعنت کرنا یعنی مباہلہ کرنا اُسی کی طرف اُس کا بد اثر