حقیقةُ الوحی

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 552 of 830

حقیقةُ الوحی — Page 552

روحانی خزائن جلد ۲۲ ۵۵۲ تتمه ۔ رو کیا جائے گا اور متقیوں کے لئے بہشت نزدیک ہے۔ اس الہام کا ماحصل یہ ہے کہ بابو الہی بخش صاحب متقی ہیں اور میں کافرہوں اور جو میرا اُن کے ساتھ باہم لعنت الله على الكاذبين یعنی مباہلہ ہوا تھا وہ لعنت بموجب اُن کے الہام کے میرے پر پڑے گی اور وہ ہر ایک بات میں کامیاب ہو جائیں گے۔ واضح ہو کہ لعان کہتے ہیں عربی زبان میں ملاعنہ کو ۔ لسان العرب میں لکھا ہے اللعان والملاعنة: اللعن بين اثنين فصاعدًا۔ یعنی لعان اور ملاعنہ جو دولفظ ہیں ان دونوں کے معنی یہ ہیں کہ دو آدمی یا اُن سے زیادہ ایک دوسرے پر لعنت بھیجیں۔ پھر اسی کتاب لسان العرب میں لعن کے یہ معنی لکھتے ہیں کہ۔ اللعن الإبعاد والطرد من الخير يعنی لعنت کے یہ معنی ہیں کہ ہر ایک نیکی اور مال اور برکت اور بہتری سے کسی کو محروم کیا جائے۔ پھر دوسرے معنی لعنت کے یہ لکھے ہیں کہ الا بعاد من الله ومن الخلق یعنی لعنت کے یہ معنی ہیں کہ جناب الہی سے مردود ہو جاوے اور قبولیت سے محروم رہے۔ اور مخلوق کی نظر سے بھی گر جاوے اور عزت اور وجاہت بھی جاتی رہے۔ غرض خدا کے نزدیک لعنت کا لفظ تمام نامرادیوں اور مردود اور مخذول ہونے کے معنوں پر محیط ہے اور ہر ایک نوع کی برکت سے محروم اور مخذول اور مردو در بنا اس کے لوازم میں سے ہے اور جس شخص پر خدا کی لعنت وارد ہو جائے اُس کا ثمرہ ہلاکت اور تباہی ہے اسی وجہ سے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اگر نجران کے عیسائی مجھ سے مباہلہ کرتے (جو لعنت اللہ علی الکاذبین کے ساتھ کیا جاتا ہے ) تو اس قدرموت اور ہلاکت اُن پر آتی کہ اُن کے درختوں کے پرندے بھی مر جاتے۔ اب با بوالهی بخش صاحب کے الہام کا مطلب جس میں ملاعنہ کا ذکر ہے ہر ایک منصف مزاج سمجھ سکتا ہے کیونکہ الہام کا یہ مطلب ہے کہ وہ ملا عنہ جو مجھ میں اور بابوصاحب میں واقع ہوا تھا جس کا ذکر کتاب عصائے موسیٰ کے صفحہ ۲ اور صفحہ سے میں بھی ہے اور کتاب مذکور کے دوسرے مقام میں بھی مذکور ہے اس کا بداثر میرے پر ہی پڑے گا اور میں اُن کی زندگی میں ہلاک اور تباہ ہو جاؤں گا حالانکہ خدا تعالیٰ کے ارادہ نے اس کے برخلاف ظاہر کیا۔ اور نہ صرف یہ ہوا کہ