حقیقةُ الوحی

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 547 of 830

حقیقةُ الوحی — Page 547

روحانی خزائن جلد ۲۲ ۵۴۷ تتمه اور تمام سلسلہ اس کا تباہ ہو جائے گا اور خدا کا غضب اس پر نازل ہوگا اور اس کا کچھ بھی باقی نہیں 11 ہے رہے گا لیکن بر خلاف اس کے خدا نے مجھے کامل ترقی دی اور کامل عزت اور تمام اطراف دنیا میں کامل شہرت دی اور میری زندگی میں اس فضول گو اور بے ادب اور تیز مزاج اور منہ پھٹے دشمن کو طاعون سے ہلاک کیا۔ پس کیا اب بھی اُس کا نام موسیٰ رکھو گے؟ یہ کیسا موسیٰ تھا کہ جس کو وہ فرعون کہتا تھا اور اپنی زندگی میں اس کی ہلاکت کی خبر دیتا تھا اُسی کے سامنے طاعون کی ذلیل موت سے وہ ہلاک ہو گیا۔ یہ عجیب بات ہے کہ جس شخص کو وہ فرعون قرار دیتا تھا اس نے اپنا یہ الہام شائع کیا تھا کہ اِنِّی أَحَافِظُ كُلَّ مَنْ فِى الدار یعنی خدا فرماتا ہے کہ جو لوگ اس گھر کی چاردیواری کے اندر ہیں سب کو میں طاعون سے بچاؤں گا۔ سو گیارہ برس سے بڑے بڑے حملے طاعون کے اس نواح میں ہو رہے ہیں مگر خدا تعالیٰ کے فضل سے ہمارے گھر کا ایک کتا بھی طاعون سے نہیں مرا مگر جو اپنے تئیں موسیٰ قرار دیتا تھا خودوہ طاعون سے مرگیا اور صرف یہی نہیں بلکہ وہ تمام الہام اُس کے جھوٹے نکلے اور اُس کی ذلت کے باعث ہوئے جو میری موت اور طاعون اور نا کامی کے بارے میں اس نے شائع کئے تھے ۔ پس کہاں گیا یہ الہام کہ انسی مهین لمن اراد اهانتک یہ انجام اُن لوگوں کا ہوتا ہے جو حدیث النفس کا نام الہام رکھ لیتے ہیں اور خدا کے فعل کی شہادت سے اپنے الہامات کا امتحان نہیں کرتے ۔ یادر ہے کہ جب تک کہ ایک بارش کی طرح فوق العادت خدا کے نشان الہام کی تائید میں نازل نہ ہوں جو معمولی طریق سے بہت بڑھے ہوئے ہوں تب تک اپنے الہاموں کو خدا کا کلام سمجھنا دوزخ کی راہ اختیار کرنا ہے اور ذلت کی موت خریدنا ہے کیونکہ الہام صرف قول ہے اور قول میں شیطان بھی شریک ہوسکتا ہے اور انسان بھی بطور افترا ایسا قول بیان کر سکتا ہے اور حدیث النفس بھی ہو سکتی ہے۔ پس نہایت حماقت اور جہالت ہے کہ انسان صرف اس بات پر بھروسہ کر کے کہ اس کی زبان پر کچھ جاری ہوتا ہے ایسے