حقیقةُ الوحی

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 546 of 830

حقیقةُ الوحی — Page 546

روحانی خزائن جلد ۲۲ ۵۴۶ تتمه افسوس منشی الہی بخش صاحب لاہوری مصنف عصائے موسیٰ بھی طاعون سے شہید ہو گئے ۔ دیکھو پر چہ اہلحدیث اارا پریل ۱۹۰۷ء و پھر ایک اور الہام اپنا الہی بخش نے اپنی کتاب عصائے موسیٰ کے صفحہ 9ے میں میری نسبت لکھا ہے اور وہ یہ ہے انی مهین لمن اراد اهانتک “اگر چہ یہ فقرہ نحوی نقص سے آلودہ ہے کہ من کے لفظ پر لام لگایا گیا ہے۔ مگر اس کے معنی الہی بخش نے یہ کئے ہیں کہ گویا میں اُس کے مقابل پر ذلیل کیا جاؤں گا اور اُس کی سچائی ظاہر ہوگی ۔ دراصل مدت دراز سے خدا تعالیٰ نے مجھے یہ الہام کیا تھا کہ اِنّى مُهِينٌ مَنْ اَرَادَ اهَا نَتَكَ اور الہی بخش بارہا میرے منہ سے یہ الہام سن چکا تھا اور خدا نے دکھلا دیا تھا کہ ہر ایک شخص جس نے میرا مقابلہ کیا اُس کا کیا انجام ہوا۔ پس اس الہام میں الہی بخش کی طرف سے صرف ایک لام ہے جو انتفاع کے لئے آتا ہے مگر اس جگہ غیر محل ہے اور اس کے مقصود کے برخلاف ہے اور اس صورت میں اس الہام کے یہ معنی ہوئے کہ اے الہی بخش میں تیری اہانت کروں گا اُس شخص کی تائید میں جو تیری اہانت چاہتا ہے۔ اور اگر یہ مان لیا جائے کہ جیسا کہ الہی بخش کا مطلب ہے کہ اُس کی اہانت کرنے سے خدا میری اہانت کرے گا سو یہ معنی بدیہی طور پر غلط ثابت ہوئے کیونکہ میں سالہا سال سے شائع کر رہا ہوں کہ الہی بخش اپنے تئیں موسیٰ بنانے اور میری تکذیب میں جھوٹا ہے خدا اُس کو رسوا کرے گا اور مدت ہوئی کہ میں اپنا یہ الہام شائع کر چکا ہوں۔ اس صورت میں صاف ظاہر ہے کہ خدا نے میرے رو بروالہی بخش کو طاعون کی موت دے کر رسوا کیا اور وہ اپنے تمام دعووں میں نا مرا درہا۔ اور خدا نے لاکھوں انسانوں کو میری جماعت میں شامل کر کے مجھے عزت دی۔ پس اگر الہی بخش کو یہ الہام خدا تعالیٰ کی طرف سے ہی ہوا تھا کہ جو شخص تیری اہانت کرتا ہے میں اُس کی اہانت کروں گا تو ضروری تھا کہ وہ الہام پورا ہو جاتا حالانکہ الہی بخش کی بے وقت موت جو میری زندگی میں ہی ہوئی اُس کے جھوٹے ہونے پر مہر لگا گئی۔ وہ دعویٰ کرتا تھا کہ یہ شخص فرعون ہے اور میں موسیٰ ہوں اور میری زندگی میں ہی یہ ہلاک ہوگا اور طاعون سے مرے گا