حقیقةُ الوحی — Page 509
روحانی خزائن جلد ۲۲ ۵۰۹ تتمه حقيقة الوحى نوشتوں میں اس کا وعدہ تھا اور نیز میں نے اس میں لکھا تھا کہ ڈاکٹر ڈوئی اپنے دعوئی رسول ہونے اور تثلیث کے عقیدہ میں جھوٹا ہے اگر وہ مجھ سے مباہلہ کرے تو میری زندگی میں ہی بہت سی حسرت اور دکھ کے ساتھ مرے گا اور اگر مباہلہ بھی نہ کرے تب بھی وہ خدا کے عذاب سے بیچ نہیں سکتا ۔ اس کے جواب میں بد قسمت ڈوئی نے دسمبر ۱۹۰۳ء کے کسی پر چہ میں اور نیز ۲۶ ستمبر ۱۹۰۳ء وغیرہ کے اپنے پر چوں میں اپنی طرف سے یہ چند سطر میں انگریزی میں شائع کیں جن کا ترجمہ ذیل میں ہے : ”ہندوستان میں ایک بیوقوف محمدی مسیح ہے جو مجھے بار بار لکھتا ہے کہ مسیح یسوع کی قبر کشمیر میں ہے اور لوگ مجھے کہتے ہیں کہ تو اس کا جواب کیوں نہیں دیتا اور کہ تو کیوں اس شخص کا جواب نہیں دیتا مگر کیاتم خیال کرتے ہو کہ میں ان مچھروں اور مکھیوں کا جواب دوں گا اگر میں ان پر اپنا پاؤں رکھوں تو میں ان کو کچل کر مار ڈالوں گا ۔“ اور پھر پر چہ 9 اردسمبر ۱۹۰۲ء میں لکھتا ہے کہ میرا کام یہ ہے کہ میں مشرق اور مغرب اور شمال اور جنوب سے لوگوں کو جمع کروں اور مسیحیوں کو اس شہر اور دوسرے شہروں میں آباد کروں یہاں تک کہ وہ دن آجائے کہ مذہب محمدی دنیا سے مٹایا جائے۔اے خدا ہمیں وہ وقت دکھلا ۔“ غرض یہ شخص میرے مضمون مباہلہ کے بعد جو یوروپ اور امریکہ اور اس ملک میں شائع ہو چکا تھا بلکہ تمام دنیا میں شائع ہو گیا تھا شوخی میں روز بروز بڑھتا گیا اور اس طرف مجھے یہ انتظار تھی کہ جو کچھ میں نے اپنی نسبت اور اُس کی نسبت خدا تعالی سے فیصلہ چاہا ہے ضرور خدا تعالی سچا فیصلہ کرے گا اور خدا تعالیٰ کا فیصلہ کا ذب اور صادق میں فرق کر کے دکھلا دے گا۔ جلد اس اشتہار کے صفحہ ۳ کو پڑھو جس کا خلاصہ مطلب یہ ہے کہ ۲۳ را گست ۱۹۰۳ء کو بزبان انگریزی میں نے ڈوئی کے مقابل پر ایک اشتہار شائع کیا تھا اور خدا تعالیٰ سے الہام پا کر اس میں لکھا تھا کہ خواہ ڈوئی میرے ساتھ مباہلہ کرے یا نہ کرے وہ خدا کے عذاب سے نہیں بچے گا اور خدا جھوٹے اور بچے میں فیصلہ کر کے دکھلا دے گا۔ منہ