حقیقةُ الوحی

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 448 of 830

حقیقةُ الوحی — Page 448

روحانی خزائن جلد ۲۲ ۴۴۸ تتمه حقيقة الوحى جھوٹے مسیح پر آگ پڑے گی * اور اُس کو ہلاک کرے گی ۔ میری نسبت یہ پیشگوئی کی تھی جو فارسی زبان میں شعر ہیں اور وہ یہ ہیں: اخذ يمين و قطع و تین است بهر تو بے رونقی و سلسلہ ہائے مزوری اکنون باصطلاح شما نام ابتلا است آخر بروز حشر و بایں دار خاسری ترجمہ ان اشعار کا یہ ہے کہ وہ اپنی کتاب مذکور میں مجھے مخاطب کر کے لکھتا ہے کہ خدا کی طرف سے تیرے لئے مقدر ہو چکا ہے کہ خدا تجھے پکڑے گا اور تیری رگ جان کاٹ دے گا۔ تب تیرے مرنے کے بعد یہ جھوٹا تیرا سلسلہ تباہ ہو جائے گا اور اگر چہ تم لوگ کہتے ہو کہ ابتلا بھی آیا کرتے ہیں مگر آخر تو حشر کے دن اور نیز اس دنیا میں زیاں کار اور نامراد مرے گا اور پھر بعد اس کے آیت لَوْ تَقَوَّلَ عَلَيْنَا لکھ کر کہتا ہے کہ تو ہر جگہ ذلت پائے گا اور اس جہان میں اور اُس جہان میں تیرے لئے عزت نہیں۔ اس کے ان کلمات سے ظاہر ہے کہ وہ میری نسبت کیا آرزو رکھتا تھا۔ جس کو وہ ہزاروں حسرتوں کے ساتھ اپنے دل میں لے گیا یہ مقام منصفین کے بڑی غور کے لائق ہے کہ یہ دوطرفہ پیشگوئیاں مباہلہ کے طور پر تھیں یعنی اُس نے میری موت کی خبر دی تھی جس کو وہ خیال کرتا تھا جو اس کی زندگی میں ہی میری موت نہایت نامرادی سے ہوگی اور میری موت کے لئے وہ بہت دعائیں کرتا تھا اور اس کو یقین تھا کہ ایسا ہی ہوگا دوسری طرف اس کی پیشگوئی سے چار برس بعد مجھے خدا نے خبر دی کہ وہ میری زندگی میں ہی ذلت کی موت سے مرے گا اور طاعون کی ایک قسم سے ہلاک ہوگا اور میں اپنی پیشگوئی کی تصدیق کے لئے اس کی موت کے بارے میں دعائیں کرتا تھا آخر خدا نے مجھے سچا کیا اور وہ میری پیشگوئی کے مطابق میری زندگی میں ہی جنوری کے پہلے ہفتہ میں ہی ہلاک ہوا ۔ اور جن حسرتوں اور ذلتوں کے ساتھ وہ مرگیا ان کا کون اندازہ کر سکتا ہے؟ اور یہ حسرت اور ذلت کچھ تھوڑی نہیں کہ جس کی وہ موت چاہتا تھا اور جس کے لئے وہ اپنی پیشگوئی شائع کر چکا تھا اس کو نہ صرف زندہ چھوڑ گیا یا طاعون بھی ایک آگ۔ آگ سے سعد اللہ ہلاک ہوا۔ منہ