حقیقةُ الوحی — Page 449
روحانی خزائن جلد ۲۲ ۴۴۹ تتمه حقيقة الوحي بلکہ لاکھوں انسانوں کو اس کے تابع دیکھ گیا اور وہ جماعت جس کی بربادی اور تباہی کے لئے اُس نے پیشگوئی کی تھی اُس کی غیر معمولی اور معجزانہ ترقی کو اُس نے بچشم خود دیکھ لیا اور صرف اسی قدر نہیں بلکہ وہ یہ بھی دعائیں کرتا تھا کہ الہام اِنَّ شَانِئَكَ هُوَ الْاَبْتَرُ کے برخلاف اپنی بہت سی اولا د دیکھ لے گا۔ لیکن اُس کی اولاد ہو کر مرتی گئی اور یہ ایک دل خراش دُکھ تھا جو اُس نے بار بار دیکھا اور الہام اِنَّ شَانِئَكَ هُوَ الْاَبْتَرُ کے بعد کوئی لڑکا اس کے گھر میں پیدا نہ ہوا اور صرف وہ بیٹا رہا جو پیشگوئی سے پہلے پیدا ہو چکا تھا اور بڑی عمر تک پہنچ گیا اور اب تک شادی اور (۱۸) بیاہ کا نام تک نہیں چہ جائیکہ اولا د ہو۔ اس حسرت پر اُس کے یہ اشعار کافی ہیں جو اُس کی ایک مناجات میں ہیں جن کی قاضی الحاجات سرخی ہے اور وہ یہ ہیں: جگر گوشہ ہا دادی اے بے نیاز ولے چند زانها گرفتی تو باز دل من بنعم البدل شاد کن بلطف از بود ہر غم و غصه آزاد کن یکے قرة العین من ز ازواج و اولادم اے ذوالمنن جگر پار ہائے کہ رفتند پیش ز مهجوری شان دلم ریش ریش ان درد ناک اشعار پر نظر ڈال کر ہر ایک شخص سوچ سکتا ہے کہ اولاد نہ ہونے اور مرجانے سے کس قدر حسرتیں اُس کے دل میں بھری ہوئی تھیں جن سے وہ نجات نہ پا سکا اور ۱۶ جیسا کہ اُس کی کتاب سے ثابت ہوتا ہے سولہ برس تک اپنی کثرت اولاد کے لئے اور میری موت اور تباہی کے لئے وہ دعائیں کرتا رہا۔ آخر جنوری ۱۹۰۷ء کے پہلے ہفتہ میں ہی اُن تمام دعاؤں سے نامرادرہ کر چند گھنٹہ میں لدھیانہ میں نمونیا پلیگ سے مر گیا اور وہ نہیں چاہتا تھا کہ میری زندگی میں اُس کی موت ہو بلکہ یہ چاہتا تھا کہ اُس کی زندگی میں میری موت ہواس بارے میں اُس نے پیشگوئی بھی شائع کی اور وہ نہیں چاہتا تھا کہ میرے اولاد ہو یا میری جماعت ترقی کرے اور اپنی اولاد کی کثرت چاہتا تھا اور وہ نہیں چاہتا تھا کہ میرے سلسلہ کی