حقیقةُ الوحی — Page 447
روحانی خزائن جلد ۲۲ ۴۴۷ تتمه حقيقة الوحي خدا سے یہ چاہا تھا کہ ہم دونوں میں سے جو جھوٹا ہے صادق کی زندگی میں ہی اس کی موت ہو اور اسی بنا پر آٹھویں شعر میں میں نے یہ لکھا ہے کہ اے سعد اللہ تو نے مجھے بہت دکھ دیا ہے پس اگر تیری ذلت کے ساتھ موت نہ ہو یعنی اگر تو بموجب اس مباہلہ کے میری زندگی میں ہی نا مرادر ہ کر مر نہ جائے تو پھر میں جھوٹا ہوں ۔ اور چوتھے شعر میں صریح طور پر یہ اشارہ بھی کر دیا گیا ہے کہ سعد اللہ نمونیا پلیگ سے مرے گا کیونکہ طعنہ کا لفظ طاعون کی طرف اشارہ کرتا ہے ہے اور نجلاء عربی زبان میں فراخ زخم کو کہتے ہیں اور نمونیا پلیگ کی بھی یہی صورت ہوتی ہے کہ پھر ہ زخمی ہو کر پھٹ جاتا ہے اور اس میں فراخ زخم ہو جاتا ہے اور عجیب تر یہ ہے کہ جس زمانہ میں یہ پیشگوئی کی گئی اُس زمانہ میں اس ملک میں طاعون کا نام ونشان نہ تھا پس یہ اس قادر علیم کے عمیق در عمیق علم کا ایک نمونہ ہے کہ اُس نے سعد اللہ کی اس قسم کی موت کی اُس وقت خبر دی جبکہ یہ تمام ملک طاعون سے پاک تھا۔ اور یہ جو مذکورہ بالا اشعار میں خدا تعالیٰ نے یہ پیشگوئی فرمائی ہے کہ میری زندگی میں ہی سعد اللہ کی موت ذلت اور رسوائی کے ساتھ ہوگی یہ پیشگوئی پورے طور پر ظہور میں آگئی اور نمونیہ پلیگ نے چند گھنٹہ میں ہی اُس کا کام تمام کر دیا اور جنوری ۱۹۰۷ ء کے پہلے ہی ہفتہ میں وہ اس دنیا سے گذر گیا مگر اس جگہ طبعا سوال پیدا ہوتا ہے کہ ایسی پیشگوئی کیوں کی گئی تھی اور کیوں اس کی گالیوں پر صبر نہ کیا گیا اس کا جواب یہ ہے کہ اس پیشگوئی سے چار برس پہلے سعد اللہ نے میری موت کی نسبت اور تمام جماعت کے مرتد اور منتشر ہونے کی نسبت پیشگوئی اپنی کتاب شہاب ثاقب میں شائع کی تھی اور اس میں اُس نے صاف طور پر لکھا تھا کہ یہ شخص کذاب اور مفتری ہے اس لئے وہ ذلت کی موت سے مرے گا اور اس کی جماعت متفرق اور منتشر ہو جائے گی اور بہت گندے الفاظ کے ساتھ میری ہلاکت کی خبر دی تھی اس لئے خدا تعالیٰ کی غیرت نے جو وہ صادقوں کے لئے رکھتا ہے اُس کی پیشگوئی کو اسی پر الٹا دیا ۔ بدقسمت سعد اللہ نے اپنی کتاب میں جس کا نام اُس نے رکھا ہے شہاب ثاقب بر مسیح کا ذب جس کے معنی ہیں کہ اس