حقیقةُ الوحی

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 370 of 830

حقیقةُ الوحی — Page 370

روحانی خزائن جلد ۲۲ ۳۷۰ حقيقة الـ سے اُس کو روک دیا۔ کیا میرا نام مرزا صاحب ہے کیا دنیا میں اور کوئی مرزا صاحب کے نام سے (۳۵۷) پکارا نہیں جاتا۔ اور پھر تیسرا تعجب یہ کہ میں تو الہام کی رو سے فرعون ٹھیرا اور محی الدین صاحب قائم مقام موسیٰ ہوئے۔ پس چاہیے تھا کہ موسیٰ کی زندگی میں میں مر جاتا نہ کہ موسیٰ ہی ہلاک ہو جاتا محی الدین صاحب کی بد دعاؤں کا سلسلہ جاری تھا اور میری ہلاکت کے لئے وہ کئی الہام بھی دیکھ چکے تھے پھر یہ کیا ہوا کہ وہ سب الہام اُنہیں پر پڑ گئے اور میری جگہ وہ مر گئے ۔ کیا یہ عجیب نہیں ہے کہ جس کو انہوں نے فرعون قرار دیا تھا وہ تو اب تک زندہ ہے جو بول رہا ہے بلکہ ترقی پر ترقی کر رہا ہے مگر وہ جو موسیٰ کے مشابہ اپنے تئیں سمجھتا تھا وہ کئی سال ہو گئے کہ اس دنیا سے گذر گیا اور اب اُس کا زمین پر نام و نشان نہیں۔ یہ کیسا موسیٰ تھا کہ فرعون کے سامنے ہی اس جہان کو چھوڑ گیا۔ پھر دوسرا الہام محی الدین صاحب کا یہ بھی تھا کہ إِنَّ شَانِئَكَ هُوَ الابتر یعنی تیرا بد گو تباہ کیا جائے گا اور لا ولد رہے گا اور لا ولد مرے گا۔ اس الہام میں اُن کے خیال میں میری ہلاکت اور تباہی اور لا ولد مرنے کی طرف اشارہ تھا۔ سوالحمد للہ کہ میں اب تک زندہ ہوں۔ میاں محی الدین صاحب قریباً دس برس ہوئے ہیں کہ فوت ہو گئے اور اُن کے اس الہام کے بعد میرے تین بیٹے اور ہوئے اور اگر اس الہام کے بعد محی الدین صاحب کے گھر میں بھی کوئی لڑکا ہوا ہے جو زندہ ہے تو میں عہد کرتا ہوں کہ میں اُن کی بیوی کو ایک نتور و پیہ نقد دوں گا ورنہ ظاہر ہے کہ یہ الہام اُن کا اُنہیں پر صادق آیا میں نے معتبر ذریعہ سے یہ سنا ہے کہ اس الہام کے بعد کوئی لڑکا نہیں ہوا بلکہ ایک جوان لڑکا مر گیا اور صرف ایک مباہلہ کا صرف یہی اثر نہیں کہ مولوی محی الدین صاحب اپنی اس دعا کے بعد کہ ان شانسٹک ھو الابتر_خودمر گئے اور ایک لڑکا اٹھارہ برس کا مر گیا بلکہ میں نے بعض عورتوں کو اُن کے گھر میں بھیج کر دریافت کیا ہے کہ ان کی بیوی خود اپنی زبان سے کہتی ہے کہ اس بد دعا کے بعد اُن کے گھر کا تختہ الٹ گیا۔ مولوی محی الدین بہت جلد مکہ اور مدینہ کی راہ میں فوت ہو گئے اور اس قدر تنگی اور تکلیف دامنگیر ہوئی کہ اب صرف گدا گری پر گزارہ ہے چند دیہات سے بطور گدائی آٹا لاتے ہیں تو اس سے پیٹ بھرتے ہیں اور جس دن آٹا نہ آوے اُس روز فاقہ ۔ اُن کی بیوی کہتی تھی کہ اب ہمارے پر رات پڑ گئی ہے۔ منہ ☆