حقیقةُ الوحی — Page 369
روحانی خزائن جلد ۲۲ ۳۶۹ حقيقة ا اس الہام میں انہوں نے اپنے خیال میں مجھ کو فرعون قرار دیا ہے جیسا کہ خود انہوں نے اس (۳۵۶ خط میں اس کی تصریح کی ہے لیکن تعجب کہ کیسے بڑے ادب سے خدا نے مجھ کو پکارا ہے کہ مرزا نے نہیں کہا بلکہ میرزا صاحب کہا ہے چاہیے کہ یہ لوگ خدا تعالیٰ سے ادب سیکھیں اور پھر دوسرا تعجب یہ کہ باوجود اس کے کہ میری طرف سے یہ درخواست تھی کہ الہام میں میرا نام ظاہر کیا جائے مگر پھر بھی خدا کو میرا نام لینے سے شرم دامنگیر ہوگئی اور شرم کے غلبہ نے میرا نام زبان پر لانے اس معاملہ میں دخل دیتا مگر ڈرتے ڈرتے اور جو تکلیف تجھے پہنچے گی وہ تو خدا کی طرف سے ہے اس فتوے سے تیرے پر ایک فتنہ برپا ہو جائے گا پس صبر کر جیسا کہ اولوالعزم نبیوں نے صبر کیا۔ یا درکھ کہ یہ تکفیر کا فتنہ خدا کی طرف سے ظاہر ہوگا تا وہ تجھ سے بہت پیار کرے۔ یہ اُس کریم کا پیار ہے جوعزیز اور بزرگ ہے اور یہ وہ عطا ہے کہ کبھی واپس نہیں لی جائے گی۔ اب اس جگہ آنکھ کھول کر دیکھ لو کہ خدا نے مجھے اس جگہ موسیٰ ٹھیرایا اور مستفتی اور مفتی کو فرعون اور ہامان ٹھیرایا اور مولوی محی الدین نے تو یہ الہام ۱۳۱۲ھ میں ظاہر کیا جیسا کہ اُن کے خط کی تاریخ سے ظاہر ہوتا ہے۔ پس بموجب مقولہ مشہورہ کہ الفضل للمتقدم زیادہ اعتبار کے لائق یہی الہام ہے پھر اس کی ۳۵۶ تائید میں میری کتاب ازالة الاوهام کے صفحہ ۸۵۵ میں ایک اور وحی الہی ہے اور وہ یہ ہے ۔ نريد ان ننزل علیک اسرارًا من السماء و نمزّق الاعداء كل ممزّق و نرى فرعون و هامان وجنودهما ما كانوا يحذرون۔ یعنی ہم ارادہ کرتے ہیں کہ تیرے پر آسمانی نشان نازل کریں گے اور اُن سے دشمنوں کو ہم پیس ڈالیں گے اور فرعون اور ہامان اور اُن کے جنود کو ہم وہ اپنے کرشمہ قدرت دکھا ئیں گے جن کے ظہور سے وہ ڈرتے تھے اب دیکھو اس جگہ بھی خدا تعالیٰ نے اول المکفرین کا نام فرعون اور ہامان رکھا اور یہ کتاب ۱۸۹۱ء میں چھپی ہے ۔ پس یہ الہام بھی محی الدین کے الہام سے چار برس پہلے ہے کیونکہ اُن کے خط میں جس میں یہ الہام ہے ۱۳۱۲ ہجری لکھا ہے اور یہ ۱۸۹۱ء میں ۔ پس جو مقدم ہے اس کی رعایت مقدم ہے اور مولوی محی الدین صاحب کے خط میں بتفریح موجود ہے کہ انہوں نے مجھے فرعون قرار دیا ہے اور اخویم حکیم نور دین صاحب کو ہامان قرار دیا ہے آپ موسیٰ صفات بنے ہیں مگر یہ تعجب کی بات ہے کہ فرعون اور ہامان تو اب تک زندہ ہیں اور موسیٰ اس جہان سے گذر گیا۔ چاہیے تھا کہ الہامی تشبیہ کو پورا کرنے کے لئے ہمیں ہلاک کر کے مرتے مگر یہ کیا ہوا کہ آپ ہی ہلاک ہو گئے ۔ کیا کوئی اس کا جواب دے سکتا ہے۔ منہ