حقیقةُ الوحی

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 346 of 830

حقیقةُ الوحی — Page 346

روحانی خزائن جلد ۲۲ ۳۴۶ حقيقة ا اس لئے دعا کی گئی۔ ۵/ مارچ ۱۹۰۵ء کو میں نے خواب میں دیکھا کہ ایک شخص جو فرشتہ معلوم ہوتا تھا میرے سامنے آیا اور اُس نے بہت سا روپیہ میرے دامن میں ڈال دیا میں نے اُس کا نام پوچھا اس نے کہا نام کچھ نہیں میں نے کہا آخر کچھ تو نام ہوگا اُس نے کہا میرا نام ہے نیچی ۔ نیچی ۔ پنجابی زبان میں وقت مقررہ کو کہتے ہیں یعنی عین ضرورت کے وقت پر آنے والا تب میری آنکھ کھل گئی۔ بعد اس کے خدا تعالیٰ کی طرف سے کیا ڈاک کے ذریعہ سے اور کیا براہ راست لوگوں کے ہاتھوں سے اس قدر مالی فتوحات ہو ئیں جن کا خیال و گمان نہ تھا اور کئی ہزار روپیہ آ گیا چنانچہ جو شخص اس کی تصدیق کے لئے صرف ڈاک خانہ کے رجسٹر ہی ۳۳۳ ۵ر مارچ ۱۹۰۵ء سے اخیر سال تک دیکھے اُس کو معلوم ہوگا کہ کس قدر رو پیر آیا تھا۔ یادر ہے کہ خدا تعالیٰ کی مجھ سے یہ عادت ہے کہ اکثر جو نقد روپیہ آنے والا ہو یا اور چیزیں تحائف کے طور پر ہوں اُن کی خبر قبل از وقت بذریعہ الہام یا خواب کے مجھ کو دے دیتا ہے اور اس قسم کے نشان پچاس ہزار سے کچھ زیادہ ہوں گے۔ ۱۴۸۔ نشان۔ ایک دفعہ ایسا اتفاق ہوا کہ میں نعمت اللہ ولی کا وہ قصیدہ دیکھ رہا تھا جس میں اُس نے میرے آنے کی بطور پیشگوئی خبر دی ہے اور میرا نام بھی لکھا ہے اور بتلایا ہے کہ تیرھویں صدی کے اخیر میں وہ مسیح موعود ظاہر ہوگا اور میری نسبت یہ شعر لکھا ہے کہ مهدی وقت و عیسی دوران هر دو را شہسوار می بینم یعنی وہ آنے والا مہدی بھی ہوگا اور عیسی بھی ہوگا دونوں ناموں کا مصداق ہوگا اور دونوں طور کے دعوے کرے گا۔ پس اس اثناء میں کہ میں یہ شعر پڑھ رہا تھا عین پڑھنے کے وقت مجھے یہ الہام ہوا۔ از پئے آن محمد احسن را تارک روزگار می بینم یعنی میں دیکھتا ہوں کہ مولوی سید محمد احسن امروہی اسی غرض کے لئے اپنی نوکری سے جو ریاست بھوپال میں تھی علیحدہ ہو گئے تا خدا کے مسیح موعود کے پاس حاضر ہوں اور اُس کے دعوے کی تائید کے لئے خدمت بجالا وے اور یہ ایک پیشگوئی تھی جو بعد میں نہایت صفائی سے ظہور میں آئی۔