حقیقةُ الوحی — Page 303
روحانی خزائن جلد ۲۲ ۳۰۳ حقيقة الوح توحید قائم نہیں رہی تھی اور اسی نبی نے ظاہر ہو کر تو حید کو نئے سرے قائم کیا اور زمین پر خدا (۲۹۰) کے جلال اور عظمت کا سکہ جمایا اور ہزار ہا نشانوں اور معجزات سے اپنی سچائی ظاہر کی اور اب تک اُس کے معجزات ظہور میں آرہے ہیں۔ پس کیا یہ شرافت اور تہذیب کا طریق تھا کہ ایسے عظیم الشان نبی کو جو خدا کے جلال کو زمین پر ظاہر کرنے والا اور بت پرستی کو نا بود کرنے والا اور نئے سرے تو حید کو قائم کرنے والا تھا گندی گالیوں سے یاد کیا جاوے؟ اور کبھی بھی بس نہ کیا جاوے! بازاروں میں گالیاں دیں؟ عام مجمعوں میں گالیاں دیں؟ ہر ایک کو چہ و گلی میں گالیاں دیں؟ خدا غضب میں دھیما ہے اور نہایت کریم ورحیم ہے مگر آخر سرکش اور بے حیا کو پکڑتا ہے۔ معاملہ آخرت کا ابھی مخفی ہے مگر ایسے مذہب کو ضرور خدا کی طرف سے کہنا پڑتا ہے جو زندہ خدا کے زندہ نشان دکھاتا ہو انسان ہر ایک عمدہ تعلیم کی نقل اتار سکتا ہے مگر خدا کے نشانوں کی نقل نہیں اتار سکتا ۔ پس اس معیار کی رو سے آج روئے زمین پر زندہ مذہب صرف اسلام ہے مگر باوجود اس کے ہم نہیں کہہ سکتے کہ ہندوؤں کے پیشوا اور اوتار کاذب اور مکار تھے اور نہ (نعوذ باللہ ) ہم اُن کو گالیاں دیتے ہیں بلکہ خدا تعالیٰ نے ہمیں یہ تعلیم دی ہے کہ کوئی آباد بستی اور ملک نہیں جس میں اُس نے کوئی نبی نہ بھیجا ہو جیسا کہ وہ خود فرماتا ہے وَاِنْ مِنْ أُمَّةٍ إِلَّا خَلَا فِيهَا نَذِيرٌ یعنی کوئی ایسی اُمت نہیں جس میں خدا کا کوئی نبی نہ آیا ہو مگر ہم اس عقیدہ کو سمجھ نہیں سکتے که با وجود خدا کے وسیع بلا داورا قالیم کے جو سب اُس کی ہدایت کے محتاج ہیں اور سب اُس کے بندے ہیں پھر بھی خدا تعالیٰ کا قدیم سے آریہ ورت سے ہی تعلق رہا اور دوسری قو میں اُس کی براہ راست ہدایت سے محروم رہی ہیں۔ خدا کا موجودہ قانون بھی ہم اُس کے برخلاف پاتے ہیں وہ دوسرے ممالک میں اب بھی اپنی وحی اور الہام سے اپنے وجود کا پتہ دیتا ہے اپنے بندوں کی نسبت خدا کی طرف سے یہ پکش پات اور طرفداری اُس کی ذات کی طرف منسوب نہیں ہو سکتی جو شخص اُس کی طرف دل اور جان سے رجوع فاطر: ۲۵