حقیقةُ الوحی — Page 302
روحانی خزائن جلد ۲۲ ٣٠٢ حقيقة الوحى (۳۸۹) اور میں وضو کر رہا تھا اور وہ نمستے کر کے چند منٹ کھڑا رہا اور پھر چلا گیا مجھے افسوس ہے کہ اُس وقت نماز کی وجہ سے میں اُس سے بات نہ کر سکا اور مجھے بڑا افسوس ہے کہ قادیان کے ہندوؤں نے اُس کو میری باتیں سننے کا موقع نہ دیا اور محض افتر ا سے اس کو جوش دلایا اور میں یقیناً جانتا ہوں کہ یہ خون اُن کی گردن پر ہے وہ باوجود اس قدر جوش کے اپنی طبیعت میں ایک سادگی بھی رکھتا تھا کیونکہ شریر لوگوں کی باتوں سے بغیر تفتیش اور تفحص کے متاثر ہو جاتا تھا اسی وجہ سے خدا تعالیٰ نے اُس کو ایک گوسالہ سے مشابہت دی بہر حال ہم اُس کی ناگہانی موت سے بغیر افسوس کے نہیں رہ سکتے مگر کیا کیا جائے کہ جو خدا تعالیٰ کی طرف سے مقدر تھا وہ پورا ہونا ضروری تھا۔ ہم ان اشعار کے نیچے جو ذیل میں لکھیں گے پنڈت لیکھرام کی اُس نعش کی تصویر دکھائیں گے جو آریہ صاحبوں نے شائع کی ہے یہ اُس وقت کی تصویر ہے جبکہ وہ مقتول ہونے کے بعد ار تھی پر رکھا گیا تھا اور ایک جماعت کثیر اُس کے ساتھ تھی یہ تصویر ہم نے اس رسالہ میں اس لئے شائع کی ہے تا اگر ممکن ہو تو کوئی اس حالت سے عبرت پکڑے اور مذہبی مباحثات میں وہ طریق اختیار نہ کرے جو خدا کو پسند نہیں۔ اس امر کو خدا تعالیٰ جانتا ہے کہ مجھے کسی سے بغض نہیں ہے اگر چہ میں لیکھرام کے معاملہ میں اس بات سے تو خوش ہوں کہ خدا تعالیٰ کی پیشگوئی پوری ہوئی مگر دوسرے پہلو سے میں غمگین ہوں کہ وہ عین جوانی کی حالت میں مرا اگر وہ میری طرف رجوع کرتا تو میں اُس کے لئے دعا کرتا تا یہ بلائل جاتی اُس کے لئے ضروری نہ تھا کہ اس بلا کے رڈ کرانے کے لئے مسلمان ہو جا تا بلکہ صرف اس قدرضروری تھا کہ گالیوں اور گندہ زبانی سے اپنے منہ کو روک لیتا اور اس کی طرف سے یہ صریح ظلم تھا کہ وہ کامل علم اور وسیع واقفیت کے کاذب اور مفتری کہتا تھا اور دوسرے تمام ہمارے نبی صلی القدر تھا اور جو خدا ما على انبیاء علیھم السلام نبی ایسے وقت میں آیا کہ جب تمام عرب اور فارس اور شام اور روم اور تمام بلاد یوروپ مخلوق پرستی میں گرفتار تھے اور با قرار پنڈت دیا نند اُس زمانہ میں تمام آریہ ورت بھی بت پرستی میں ڈوبا ہوا تھا اور کسی حصہ زمین میں خدا کی