حقیقةُ الوحی — Page 296
روحانی خزائن جلد ۲۲ ۲۹۶ حقيقة الوح ۲۸۳ صاف طور پر میں نے یہ پیشگوئی کی تھی کہ لیکھرام گوسالہ سامری کی طرح ٹکڑے ٹکڑے کیا جائے گا اور اس میں یہ اشارہ تھا کہ جیسا کہ گوسالہ سامری شنبہ کے دن ٹکڑے ٹکڑے کیا گیا تھا یہی لیکھرام کا حال ہوگا اور یہ اس کے قتل کی طرف اشارہ تھا چنا نچ لیکھر ام شنبہ کے دن قتل کیا گیا اور اُن دنوں میں شنبہ سے پہلے جمعہ کے دن مسلمانوں کی عید ہوئی تھی ایسا ہی گوسالہ سامری بھی شنبہ کے دن ٹکڑے ٹکڑے کیا گیا تھا اور وہ یہود کی عید کا دن تھا اور گوسالہ سامری ٹکڑے ٹکڑے کرنے کے بعد جلایا گیا تھا ایسا ہی لیکھرام بھی ٹکڑے ٹکڑے کرنے کے بعد جلایا گیا کیونکہ اول قاتل نے اُس کی انتڑیوں کو ٹکڑے ٹکڑے کیا اور پھر ڈاکٹر نے اُس کے زخم کو زیادہ کھولا اور بالآخر جلایا گیا اور پھر گوسالہ سامری کی طرح اُس کی ہڈیاں دریا میں ڈالی گئیں اور خدا تعالیٰ نے گوساله سامری سے اس لئے اُس کو تشبیہ دی کہ وہ گوسالہ محض بے جان تھا اور اس زمانہ کے ان کھلونے کی طرح تھا جن کی کل دبانے سے آواز نکلتی ہے اسی طرح اس گوسالہ میں سے ایک آواز نکلتی تھی پس خدا تعالیٰ فرماتا ہے کہ در اصل لیکھرام بے جان تھا اور اُس میں روحانی زندگی نہیں آئی تھی اور اس کی آواز محض گوسالہ سامری کی طرح تھی اور سچا علم اور سچا گیان اور خدا تعالیٰ سے سچا تعلق اور سچی محبت اُس کو نصیب نہیں تھی ۔ یہ آریوں کا قصور تھا کہ اُس بے جان کو جس میں روحانیت کی جان نہ تھی اور محض مردہ تھا اس مقام پر کھڑا کر دیا جس پر کوئی زندہ کھڑا ہونا چاہیے تھا۔ اس لئے اس کا گوسالہ سامری کی طرح انجام ہوا۔ اس پیشگوئی کے وقت بعض اخبار والوں نے بھی میرے پر حملے کئے چنانچہ پر چہ انیس ہند میرٹھ مطبوعہ ۲۵ / مارچ ۱۸۹۳ء میں اخبار مذکور کے ایڈیٹر نے بھی ایک حملہ کیا اور وہ یہ تھا کہ اگر لیکھرام کو تھوڑی سی در دسر یا تپ آیا تو کہہ دیا جائے گا کہ پیشگوئی پوری ہو گئی ۔ میں نے اس کے جواب میں برکات الدعا میں لکھا کہ اگر ایسی کوئی معمولی بات ہوئی تو میں سزا کے لائق ٹھیروں گا لیکن اگر پیشگوئی کا ظہور اس طور سے ہوا کہ جس میں قہر الہی کا نشان صاف صاف طور پر دکھائی دے تو پھر سمجھو کہ خدا تعالیٰ کی طرف سے ہے یہ جواب برکات الدعا